اسلام آباد ۔ ایجنسیاں
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ۔ نواز کے قائد نواز شریف کے درمیان آج ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں سترہویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان ہے۔ سیاسی حلقے ملاقات کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں تاہم اس سے انہیں کسی بریک تھرو کی توقع نہیں۔
رواں سال سترہ جولائی کو رائے ونڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد صدر آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان اس میٹنگ میں کیری لوگر بل پر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینے اور این آر او سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
نواز لیگ کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں سول ملٹری تعلقات، سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کی خلاف ورزی پر مقدمے کے اندراج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات میں سترہویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لیے ٹائم فریم طے پانے پر اتفاق رائے کا امکان ہے۔ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ صدر، امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے متوقع دورہ پاکستان سے متعلق بھی نواز شریف کو اعتماد میں لیں گے۔
