پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 09 ذو القعدة 1430هـ - 28 اکتوبر 2009م

پشاور کے مصروف بازار میں تباہ کن کاربم دھماکا، 105 افراد جاں بحق

پشاور کے مینا بازار کا علاقہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کواسپتال منتقل کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے.
پشاور کے مینا بازار کا علاقہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کواسپتال منتقل کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے.
 

اسلام آباد.پشاور.العربیہ ،ایجنسیاں

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے دارالحکومت پشاور کے ایک مصروف بازار میں تباہ کن کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سو پانچ افراد جاں بحق اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں.

پشاور کے ایک پولیس افسر ساجد خان کے مطابق بدھ کی دوپہر کار بم دھماکا شہر کے ایک مصروف علاقے پیپل منڈی میں واقع مینا بازار میں ہوا ہے.دھماکے کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد بازار میں موجود تھی.یہاں زیادہ تر خواتین خریداری کے لئے آتی ہیں.مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں.

صوبہ سرحد کے وزیراطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ بم دھماکے میں ایک سو پانچ افرادجاں بحق اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں.پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ایک ڈاکٹر صاحب گل نے کاربم دھماکے میں ترانوے افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں ساٹھ خواتین اور بچے شامل ہیں.انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس دوسو سے زیادہ زخمی لائے گئے ہیں .بعض زخمیوں کو دوسرے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے.

دھماکے کے بعد شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ نے شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کی ہے. عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اتنا شدیدتھا کہ اس سے درجنوں قریبی دکانوں میں آگ لگ گئی.فائربریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے.ایک عمارت آگ بجھانے کی کوشش کے دوران زیادہ پانی کے استعمال کی وجہ سے منہدم ہوگئی جس سے لوگوں میں مزید خوف وہراس پھیل گیا.

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد شدید زخمی ہیں جس کی وجہ سے مہلوکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے. دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ایک عینی شاہد کے مطابق اس کے بعد آگ کے شعلے اور دھواں آسمان کی جانب بلند ہونا شروع ہو گیا.

بم دھماکے سے بیسیوں دکانیں اورعمارتیں تباہ ہوگئی ہیں جن کے ملبے تلے متعددافراد دب کررہ گئے.دھماکے سے ایک مسجد بھی شہید ہوگئی ہے.سرکاری حکام اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے اور مینا بازارکا علاقہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے زخمیوں اور مرنے والوں کو ملبے سے نکالنے اور انہیں اسپتال منتقل کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے.

پشاور میں بم دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد میں ہیں اور انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے دو طرفہ امور کے علاوہ افغان سرحد کے قریب واقع جنوبی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے .

طالبان جنگجوٶں نے اس فوجی کارروائی کے رد عمل میں اکتوبر میں راول پنڈی میں پاک آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹرز سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد بم دھماکے اور حملے کئے جن میں دو سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں.

واپس اوپر

ہلیری کلنٹن کا دورہ پاکستان

ہیلری کلنٹن کا اسلام آباد آمد پر استقبال کیا جا رہا ہے

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے پاکستان کو القاعدہ کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت دینے اور وزیر خارجہ بننے کے بعد ہلیری کلنٹن پہلی مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کر رہی ہیں.

ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ امریکا کو اس بات کا مکمل اعتماد ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں. لیکن ہمیں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاٶ پر تشویش ہے اور اس حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونے کا ہمارے پاس جواز بھی موجود ہے.

امریکا اس سے پہلے خبردار کر چکا ہے کہ پاکستان کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ابھی تک جوہری پھیلاٶ کے حوالے سے ایک خطرہ ہیں. ڈاکٹر قدیر خان گذشتہ پانچ سال سے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو ایٹمی راز دینے کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر پر نظر بند ہیں.

ہلیری کلنٹن نے اپنے ہمراہ آنے والے صحافیوں سے طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم پاکستان کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ ہمارے ساتھ آئندہ موسم بہار میں ہونے والی جوہری عدم پھیلاٶ کی جائزہ کانفرنس میں شرکت کرے''.

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی ہمارے ساتھ مل کر جوہری مواد کی کٹوتی کے معاہدے پر کام کریں .ہم یہ چاہتے ہیں ،وہ حقیقی طور پر یہ سمجھنے کی کوششیں کریں کہ ہمیں کس قدر حقیقی خطرے کا سامنا ہے''.

امریکی وزیر خارجہ نے کہا :''ہم یہ جانتے ہیں کہ القاعدہ اور ان سے وابستہ انتہا پسند اتحادی جوہری مواد کی تلاش میں ہیں اور اس سے تباہ کن دھماکے کے علاوہ غیر معمولی نفسیاتی اورسیاسی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں''.

''اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان آرمی اس درپیش خطرے کا ادراک کر رہی ہے اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اس بات کو بھی سمجھیں کہ اگران کے درمیان جوہری ہتھیاروں سے مسلح دہشت گروپ آ موجود ہوتے ہیں تو اس سے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں.اس سے صرف ہمارے ملک امریکا ہی میں کچھ رونما نہیں ہو گا بلکہ اس سے پاکستان میں بھی کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے اور اس سے کیا کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں''.ہلیری کلنٹن کا مزید کہنا تھا.

واپس اوپر

پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے صدر آصف زرداری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکامشکل گھڑی میں پاکستان کے استحکام ،جمہوری اداروں کی مضبوطی اور سماجی شعبے میں امداد کے ذریعے ہرممکن تعاون فراہم کرے گا جبکہ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت ،پاکستانی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کی رات ایوان صدر اسلام آبادمیں صدر آصف زرداری سے ملاقات کی ۔اس موقع پرپاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن اور امریکاکے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک بھی موجود تھے۔ترجمان ایوان صدر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کاکہناتھاکہ امریکا حکومت اور پاکستانی عوام کے ساتھ طویل المیعاد اور کثیر الجہت تعلقات چاہتاہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا پاکستان میں تعلیم اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستانی عوام کی مدد کرے گا۔

اس موقع پرصدر زرداری نے زور دیا کہ معیشت کے استحکام کے لیے سرمایہ کاری،عالمی منڈیوں تک رسائی اور سول اداروں کی استعداد کار میں اضافے میں مدد دی جائے جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے آلات کی جلد فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔صدرزرداری نے کہاکہ امن کے لیے مذاکرات واحد راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

اس سے پہلےامریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس میں پاک امریکاتعلقات،اسٹریٹیجک تعاون میں اضافے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ ،خطے کی صورت حال، کیری لوگر بل پر عمل درآمد،توانائی کے بحران اورجنوبی وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن پرتبادلہ خیال کیاگیا۔

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان امریکاسے طویل المیعاداورمستحکم پارٹرشپ چاہتاہے جوباہمی احترام اوراعتمادپرمبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سکیورٹی مفادات پر کبھی سمجھوتا نہیں کیاجائے گااورپاکستان کم سے کم دفاعی صلاحیت برقراررکھے گا۔

امریکی وزیرخارجہ کاکہناتھا کہ وہ پاکستانی حکومت کے خدشات اور مسائل سننے اور سمجھنے آئی ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی ہرممکن مددکی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ امریکاوزیرستان کے بے گھر افراد کے لئے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ذریعے ایک کروڑ ڈالر،ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے دو کروڑ ڈالر اور سوات کے متاثرین کے لیے اڑھائی کروڑ ڈالر اضافی امدادفراہم کرے گا.

وزیراعظم گیلانی نے ہلیری کلنٹن سے بات چیت کے دوران کہا کہ امریکا آزادانہ تجارت کے معاہدے پر مذاکرات شروع کرے۔انہوں نے کہاکہ امریکی امداد حکومتی اداروں کے ذریعے استعمال کی جانی چاہیئے۔ ان کاکہناتھاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی کامیابی کیلئے پاکستانی افواج کومطلوبہ سامان جلدفراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ڈرون حملوں پر تشویش ہے، پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی مہیا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکاپاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اور پانی جیسے مسائل کے حل کیلئے ثالثی کرے اورافغانستان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں پاکستان کواعتمادمیں لیاجائے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: