بیروت.ایجنسیاں
لبنانی فوج کو بدھ کی صبح اسرائیلی سرحدکے قریب سے چار راکٹ ملے ہیں جنہیں اس نے ناکارہ بنا دیا ہے.
ایک لبنانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ چاروں کتیوشا راکٹ حلہ کے علاقے سے ایک زیر تعمیر عمارت سے ملے ہیں اور اسی جگہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیا گیا تھا. انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ برآمد کئے گئے راکٹوں میں سے تین فائر کرنے کے لئے بالکل تیاری کی حالت میں تھے.
منگل کو لبنان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک راکٹ صہیونی ریاست کے علاقے میں گرا تھا جس کا اسرائیلی فوج نے فوراً جواب دیتے ہوئے لبنان کی جانب توپخانے سے راکٹ باری کی تھی .
لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فائر کئے گئے آٹھ راکٹ سرحدی گاٶں حلہ کے قریب گرے تھے تاہم ان سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی.
اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ''توپخانے نے لبنان کے اس علاقے کی جانب راکٹ فائر کئے تھے جہاں سے کتیوشا راکٹ فائر کیا گیا تھا''.
اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج اس راکٹ حملے کو بہت سنجیدہ خیال کرتی ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری لبنانی حکومت پر عاید ہوتی ہے.لبنان،اسرائیل سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کے امن دستوں اور لبنانی فوج نے واقعہ کے بعد حلہ کی جانب جانے والے راستے کو بند کر دیا اور علاقے کی مکمل تلاشی لی ہے.
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کی ترجمان یاسمینہ بوزیا نے کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور علاقے میں لبنانی فوج کے ساتھ رابطے کے بعد اضافی دستے بھی تعینات کئے گئے ہیں. لبنان کے کسی گروپ نے راکٹ فائر کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی.لبنان کے نگران وزیر اعظم فواد سینورا نے لبنانی حدودسے راکٹ فائر کئے جانے اوراسرائیل کی جانب سے اس کے جواب میں حملے کی مذمت کی ہے.
