بغداد ۔ ایجنسیاں
عراقی پارلمینٹ ملک میں انتخابات سے متعلق قانون کی منظوری کل دے گی، جس کے بعد آئندہ برس انتخابات کے بروقت ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔
پارلیمنٹ کے سنی رکن سلیم الجبوری نے بدھ کے روز اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایوان کی قانونی کمیٹی اور اسپیکر کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے کہ اگر آج متنازعہ قانون کے ڈرافٹ پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو کل اس پر رائے شماری کر لی جائے گی اور اختلاف کی صورت میں دو مسودے تیار کر لئے جائیں گے اور ان پر ارکان پارلیمنٹ پر رائے لے لی جائے گی۔
انتخابی قانون میں مجوزہ تبدیلی سیاسی جماعتوں کو بیلٹ پیپر پر اپنے امیدواروں کی مکمل فہرست شائع کرنے کا پابند بنائے گی۔ اس سے قبل بیلٹ پیپر پر صرف انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتوں کی اشاعت پر ہی اکتفا کیا جاتا تھا۔
انتخابی قانون کی منظوری پر پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کیوجہ سے اگلے برس سولہ جنوری کو ہونے والے انتخابات کے التواء کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ حکام اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ قانون کی منظوری میں تاخیر کی صورت میں وہ بروقت انتخابات منعقد نہیں کرا پائیں گے۔
انتخابی قانون کے بارے میں پہلا مسودہ عراق کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ایڈ ملکرٹ نے منگل کو پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جنوبی عراق میں تیل کی دولت سے مالا مال کثیر القومی صوبے کرکوک سمیت پورے ملک میں انتخابات ایک ہی دن کرائے جائیں۔
تجویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرکوک میں انتخابات حالیہ ووٹر لسٹوں کے مطابق ہی کرائے جائیں۔ ایسی صورت میں صوبے کی کرد اکثریت کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم ان انتخابی فہرستوں کو بعد ازاں اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔
سفارتی حلقوں نے کرکوک میں انتخابی فہرستوں پر تنازعے کیوجہ سے وہاں انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اقوام متحدہ کا علاقے میں انتخابات کرانے کا پلان وزیر اعظم نوری المالکی، صدر جلال طالبانی اور اسپیکر عیاد السامرائی پر مشتمل اعلی اختیاراتی کمیٹی کے زیر غور تجویز سے مختلف ہے۔
اس میں کرکوک میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں تین آپشن پر بات کی گئی ہے۔ پہلے آپشن میں انتخابات کا التوا کرنا شامل ہے جبکہ دوسرا آپشن یہ کہ انتخابات سنہ دو ہزار چار کی ووٹر لسٹوں کے مطابق کرائے جائیں یا تیسری صورت میں صوبے کو دو حلقوں میں تقسیم کر کے انتخابات منعقد کرائے جائیں۔
کردوں کا دیرنیہ مطالبہ ہے کہ کرکوک کو جنوبی عراق میں ان کی خود اختیار ریاست کا حصہ بنا دیا جائے جبکہ علاقے کے عرب اور ترکمان باسی اس تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔
عراقی وزیر اعظم، مذہبی رہ نماوں، اقوام متحدہ اور امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے انتخابی قانون کو جلد منظور کرنے کے لئے بہت زیادہ دباو ڈالا جا رہا ہے۔
