کویت سٹی.ایجنسیاں
کویت کی آئینی عدالت نے چار شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ایک درخواست مسترد کر دی ہے جس میں انہوں نے حجاب اوڑھنے سے انکار کرنے والی پارلیمنٹ کی منتخب دو خواتین ارکان کی رکنیت کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا.
عدالت کے چئیرمین یوسف غنم الراشد نے اس فیصلہ کا اعلان نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے. کویتی پارلیمنٹ کی چار میں سے دو خواتین ارکان نے حجاب اوڑھنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ مئی میں منعقدہ انتخابات کے بعد کویتی حکومت کی ایک نامزد خاتون وزیر نے بھی ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا.
چار ووٹروں نے اپنی دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ دو خواتین ارکان پارلیمان نے انتخابی قانون کی اس شق کی خلاف ورزی کی ہے جس میں خواتین ووٹروں اور امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ حجاب اوڑھنے سمیت اسلامی شریعت کے قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کریں گی.
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی قانون ان قواعد و ضوابط کی وضاحت نہیں کرتا جن کی خواتین کو پاسداری کرنی چاہئے.عدالت کا کہنا ہے کہ کویتی آئین کسی بھی قانون سے بالاتر ہے اور یہ شخصی اور عقیدے کی آزادی عطا کرتا ہے اور یہ لوگوں میں مذہب یا جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتا.
کویت کے سرکاری شعبہ افتاء نے اکتوبر کے آغاز میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مسلم خواتین کو اسلامی شرعی قوانین کے مطابق حجاب ضرور اوڑھنا چاہئے. کویتی پارلیمان کے اسلام پسند ارکان اس فتویٰ کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ آزادخیال ارکان کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس فتویٰ پر عمل درآمد کوئی ضروری نہیں ہے اور صرف آئین اور قانون ہی کا حوالہ دیا جانا چاہئے.
واضح رہے کہ کویت میں آئین میں دی گئی شخصی آزادیوں کی ضمانت کی وجہ سے لباس کا کوئی ضابطہ مقرر نہیں ہے اور مرد و عورت کوئی سا بھی لباس پہن سکتے ہیں.
