غزہ.ایجنسیاں
غزہ کی پٹی میں حکمران اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ انہیں فتح تحریک کے رہ نما اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے جنوری میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے فیصلہ کو مسترد کر دینا چاہئے اور ان میں حصہ نہیں لینا چاہئے.
حماس کی جانب سے اس اعلان کے بعد فلسطینی صدر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق 24 جنوری کونئی قانون سازاسمبلی اور صدرکے چناٶ کے لئے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں اور اس سے حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہی ہو گا.
صدر عباس کے مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں انتخابات کرانے کے فیصلہ کو حماس پر دباٶ ڈالنے کا ایک حربہ قرار دیا گیا تھا تاکہ وہ مصرکی جانب سے فلسطینی دھڑوں اور نئی قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لئے پیش کئے گئے مجوزہ معاہدے کو قبول کر لے.
حماس کے تحت وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ محمود عباس نے حماس اور دوسرے دھڑوں کے ساتھ مشاورت اور کسی سمجھوتے کے بغیر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے اور یہ غیر قانونی ہے.
وزارت داخلہ کے ترجمان ایہاب الغصین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''انتخابات منعقد کرانے کے لئے کسی قسم کی تیاریاں، کمیٹیوں کی تشکیل اور ناموں کا اندراج وغیرہ غیر قانونی سمجھا جائے گا اور ہم ایسے کسی اقدام کی مخالفت کریں گے''.
انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے مقامی حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ محمود عباس کے نمائندوں کے ساتھ تعاون نہ کریں. واضح رہے کہ فلسطینی صدر کی سیکولر جماعت فتح کو صرف مغربی کنارےمیں برتری حاصل ہے اور غزہ کی پٹی سے ان کی جماعت کا اثر و رسوخ مکمل طور پرختم کیا جا چکا ہے.
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے فیصلہ کے تحت موجودہ مرکزی الیکشن کمیشن پر بھی پابندی لگا دی جائے گی.کمیشن کے غزہ کی پٹی میں پانچ دفاتر ہیں اور یہ فلسطینی صدر کے احکامات کے تحت فرائض انجام دیتا ہے.
غصین کا کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تیاریاں کرنے اور ان کے انعقاد کا مجاز نہیں ہے کیونکہ حماس اور فتح سمیت تمام فلسطینی دھڑوں نے مصر کی ثالثی میں ہوئے مذاکرات میں اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایک نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کی جائے گی.
درایں اثناء مغربی کنارے میں مرکزی الیکشن کمیشن نے ماضی میں انتخابات کے دوران کام کرنے والے عملے سے کہا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے لئے تیاریوں کی غرض سے مغربی کنارے اور غزہ میں رابطے میں رہیں.
حماس نے جون 2007ء میں غزہ کی پٹی سے فتح کے کارکنوں اور حکومتی کارندوں کو مار بھگایا تھا اور علاقے میں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا جس کے بعد سے دونوں دھڑوں کے درمیان کشیدگی چلی آ رہی ہے.فتح مصر کی جانب سے پیش کئے لئے مصالحتی معاہدے پر دستخط کر چکی ہے جبکہ حماس اس کی مزاحمت کر رہی ہے.اس معاہدے میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لئے 28 جون 2010ء کی تاریخ مقرر کی گئی ہے.
