پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعرات 10 ذو القعدة 1430هـ - 29 اکتوبر 2009م

مشکل گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:ہلیری کلنٹن

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ لاہورعلم وثقافت کا مرکز ہے اور اس شہرکا دورہ ان کے لئے اعزاز کی بات ہے.
امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ لاہورعلم وثقافت کا مرکز ہے اور اس شہرکا دورہ ان کے لئے اعزاز کی بات ہے.
 

لاہور۔ العربیۃ۔نیٹ، ایجنسیاں

امریکا کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا موثرانداز میں مقابلہ کررہا ہے ،ماضی کی طرح مشکل گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاکستان کی نہیں،امریکا کی بھی جنگ ہے .

انہوں نے یہ بات گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں طلبہ سے خطاب کے دوران کہی۔اس موقع پر ان سے طلبہ نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے سخت اور تلخ سوالات کئے جن کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ وہ امریکا نے کبھی پاکستان کا مخلص دوست ہونے کا ثبوت نہیں دیا اور اس نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے اور مطلب پورا ہونے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا ہے.

طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان تنہا نہیں بلکہ امریکا، پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ۔"ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے یکطرفہ نہیں سچے پارٹنر کی حیثیت سے تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے طلبہ کو پاکستان کی جمہوریت کے علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ''آپ میں سے ہر ایک اپنے معاشرے میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے کردار ادا کر سکتا ہے.آپ عوامی حلقوں میں اپنی آواز بلند کر کے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ آپ دوسرے شہریوں کے ساتھ مل کر قومی اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تا کہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے ہر فرد اپنی ذمہ داری پوری کر سکے۔ آپ پاکستان کی طرف سے جمہوریت کے وعدوں کو عملی صورت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ "

ہلیری کلنٹن نے اس ممتازتعلیمی ادارے کے طلبہ کے چبھتے ہوئے سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکانے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو کبھی ترجیح نہیں دی ، خطے میں امن قائم ہونے سے پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کارکردگی سے بہت متاثر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق صدربش اورابامہ انتظامیہ کی پالیسیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔انہیں پاکستان کے بارے میں سابق صدربش کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں تھا اوروہ امریکی سینٹ کی رکن کی حیثیت میں آٹھ سال تک ان پالیسیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں.ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد حالات کو کنٹرول نہیں کیا گیا۔پاکستان خطے کی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں دہشت گردی کے واقعے میں بے نظیربھٹو کی شہادت پرافسوس ہواتھا ۔وہ امریکا کی دوست تھیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کیری لوگربل پاکستان کی مائیکرو مینجمنٹ نہیں،اس کا مقصد پاکستان کی مدد کرنا ہے۔پاک امریکا تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ،ہمارے لیڈروں،سفارتکاروں اورطلبہ نے مل کرکام کیا ہے،دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی اوردیگرسنگین چلینج درپیش ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکا تعلیم، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے امریکا کی جانب سے ساڑھے چار کروڑ ڈالرز کی امداد دینے کا بھی اعلان کیا۔امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا اورپاکستان جمہوریت کے استحکام کے لیے بھی تعاون جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ لاہورعلم وثقافت کا مرکز ہے ،لاہورکا دورہ ان کے لئے ایک اعزاز ہے۔

واپس اوپر

پاکستان حالت جنگ میں

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے لاہور میں قیام کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نوازشریف سے ملاقات کی جس میں ملکی صورتحال ،دہشت گردی کے خلاف جنگ اورکیر ی لوگربل سمیت دوطرفہ دلچسپی کے مختلف امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔

میاں نوازشریف نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی پالیسیوں کے بارے میں پاکستانی عوام،سیاسی جماعتوں اورمختلف طبقات کے تحفظات دورکرے انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے، امریکا سمیت پوری دنیا اس کی مدد کرے۔

میاں نوازشریف نے مزید کہا کہ کیری لوگربل پر پاکستانی قوم کے تحفظات جائز ہیں،پاکستان کواپنی خودمختاری اورسالمیت سب سے زیادہ عزیزہے۔ اس موقع پرامریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کا خاتمہ چاہتاہے اوراس سلسلے میں پاکستان کی بھرپورمددکرےگا۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں امن پوری دنیاکے لئے ضروری ہے۔

ملاقات میں امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک، پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن،پاکستان مسلم لیگ نوازکے صدراور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف اور سینٹراسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

واپس اوپر

امریکی منڈیوں تک رسائی

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے گورنر ہاؤس لاہور میں تاجر برادری سے خطاب میں کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا کی اوپن مارکیٹوں میں پاکستانی تاجروں کو رسائی اور ملازمتوں کے مواقع مہیاکئے جائیں گے۔

امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کی مدد کے ساتھ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی تاجروں کاملکی معیشت بہتر بنانے میں اچھا وژن سامنے آیا ہے۔جمہوریت،سول سوسائٹی کی شرکت اور مارکیٹ اکانومی کسی بھی ملک کی ترقی کے اہم ستون ہوتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکا پاکستان کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اورمقامی سطح پر توانائی کی پیداواراورڈیمز بنانے میں پاکستان کی مدد کرے گا ۔اس کے علاوہ پاکستانی خواتین کی ترقی اور بہتری کے امورکا بھی جائزہ لے گا۔انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین کی بہبود کے لیے شروع کئے گئے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی تعریف کی۔

واپس اوپر

لاہور میں مصروفیات

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان کے اپنے تین روزہ دورہ کے دوسرے روز جمعرات کی صبح لاہور پہنچی تھیں جہاں انہوں نے سب سے پہلے تاریخی بادشاہی مسجد کا دورہ کیا اورمفکر پاکستان علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کے مزار پر حاضری دی۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے لاہورمیں مصروف دن گزارا۔وہ لاہورایئرپورٹ سے سیدھی مزاراقبال پہنچیں جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔سرپردوپٹہ اوڑھے ہلیری کلنٹن نے مفکرپاکستان کے مزارپرحاضری دی اورپھول چڑھائے۔ بعد میں وہ تاریخی بادشاہی مسجد گئیں۔ انہوں نے مسجد کے مختلف حصے دیکھے اورمغلیہ دور کے فن تعمیرکی تعریف کی ۔

ہلیری کلنٹن نے بادشاہی مسجد کے بالمقابل واقع تاریخی شاہی قلعے کی بھی سیر کی.انہوں نے قلعے کے حضوری دروازے کی خوبصورتی کوبے حدسراہا۔ان تاریخی مقامات کو دیکھنے کے بعد ہلیری کلنٹن گورنمنٹ کالج یونیورسٹی گئیں جہاں انہوں نے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی اوربخاری آڈیٹوریم میں طلبہ کے سوالات کے جواب دیئے۔

امریکی وزیرخارجہ کے اعزاز میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نوے شاہراہ قائداعظم پرظہرانہ دیا جہاں انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف سے ملاقات کی۔ بعد میں وہ گورنرہاؤس گئیں.وہاں انہوں نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اورتاجربرادری سے خطاب کیا۔امریکی وزیرخارجہ کے دورہ لاہو کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جس کی وجہ سے عام شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے جن علاقے میں جانا تھا ،ان میں واقع تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے تھے جبکہ کاروباری مراکزاور دیگر ادارے بھی بند تھے..

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: