بغداد.ایجنسیاں
عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ اتوار کو دوتباہ کن بم دھماکوں کے بعد گیارہ افسروں سمیت اکسٹھ سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے.ان بم دھماکوں میں ایک سو تریپن افراد مارے گئے تھے.
بغداد کی فوجی کمان کے ترجمان جنرل قاسم عطا نے میڈیا کو بتایا ہے کہ گرفتار کئے گئے افراد دارالحکومت کے علاقے صالحیہ میں تعینات تھے جہاں دوسرکاری عمارتوں کے باہر ہولناک خودکش بم دھماکے ہوئے تھے اوران کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی.
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ اتوار کو ہوئے دونوں حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے صالحیہ کے تحفظ کے ذمہ دار مختلف عہدوں پرفائزگیارہ افسروں اورپچاس سکیورٹی اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا.
جنرل قاسم عطا نے مزید بتایا کہ گرفتار شدگان میں فوج کے چار اور پولیس کے سات سنئیر افسر ہیں اوران میں صالحیہ کا پولیس سربراہ بھی شامل ہے.ایک حملے کا ہدف بنانے والی وزارت انصاف کی عمارت اسی پولیس افسر کے دائرہ اختیارمیں آتی تھی.گرفتار دوسرے اہلکاروں میں صالحیہ کے علاقے میں قائم کئے گئے پندرہ چیک پوائنٹس کے کمانڈر بھی شامل ہیں.
عراق کی وزارت صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو تریپن ہوگئی ہے اور پانچ سو سے زیادہ افرادزخمی ہیں.القاعدہ نے ان دونوں خودکش بم حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن عراقی حکومت نے سابق حکمران بعث پارٹی کے ارکان پران کا الزام عاید کیا ہے.
بغداد کے گورنر صلاح عبدالرزاق نے سوموار کو ایک بیان میں شہر کے وسط میں بم دھماکوں پرسکیورٹی فورسز پر مجرمانہ غفلت برتنے حتی کہ حملہ آوروں کے ساتھ سازباز کرنے کا الزام عاید کیا تھا.انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ انسانی ناکامی ہے کہ دوٹن دھماکا خیز مواد سے لدا ہوا ایک ٹرک وزارت انصاف کی عمارت تک پہنچ گیا تھا.
انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ بم حملے کے لئے استعمال ہونے والے ٹرک پر فلوجہ کے محکمہ آب کا لوگو پینٹ کیا ہوا تھا اور وہ فلوجہ سے بغداد تک کیسے پہنچ گیا تھا.بغداد اورخاص طور پر صالحیہ کے علاقے میں دن کے وقت ٹرکوں کے داخلے پر پابندی عاید ہے.بغداد کے گورنر نے بتایا تھا کہ صوبائی حکومت کی عمارت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک کیا منی بس کو استعمال کیا گیا تھا.
عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل محمد العسکری نے اسی ہفتے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بغداد میں دومکانوں پرچھاپہ مار کر بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد برآمد کرلیا ہے اور بعض لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی کہ کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی شناخت کیا ہے.
ان کا کہنا تھا کہ پکڑا گیا مواد 19 اگست کودوعراقی وزارتوں کے باہرتباہ کن بم دھماکوں میں استعمال ہونے والے بارود جیسا ہی تھا.ان بم دھماکوں میں ایک سو کے قریب افراد جاں بحق ہوئے تھے.جنرل عسکری نے کہا کہ ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ خودکش بمباروں کا القاعدہ سے تعلق تھا اور وہ بعث پارٹی کے بھی حامی تھے.
