نائن الیون حملوں کے ایک مبینہ منصوبہ ساز کا پاسپورٹ برآمد

جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف آپریشن راہ نجات کے دوران

نشر في:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف پاک فوج کے جاری ''آپریشن راہ نجات'' کے دوران امریکا پر نائن الیون کے حملوں کے ایک مبینہ منصوبہ ساز، جرمن نژاد سعید بھاجی کا پاسپورٹ برآمد ہوا ہے.

پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعید بھاجی کا القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں قائم سیل سے تعلق تھا اور وہ امریکا پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث رہے تھے.

ذرائع کے مطابق سعید بھاجی کے پاسپورٹ پر ستمبر 2001ءکے پہلے ہفتے میں کراچی آمد کی انٹری موجود تھی۔ بھاجی نے مبینہ طور پرحملوں کی منصوبہ بندی سے افغانستان میں موجود القاعدہ کے رہ نما اسامہ بن لادن کو آگاہ کیا تھا. انہوں نے مبینہ طور پر افغانستان اور جرمنی میں القاعدہ کے دوسرے لوگوں سے مل کر امریکا پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

جرمن شہری سعید بھاجی کا نام امریکی سی آئی اے کو سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے. ان پر نائن الیون کے حملوں میں استعمال کئے گئے طیاروں کو اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کو لاجسٹکس سپورٹ اور مالی امداد مہیا کا الزام عاید کیا گیا تھا.

رپورٹ کے مطابق سعید بھاجی کا پاسپورٹ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف آپریشن راہ نجات میں گھر گھر تلاشی کے دوران ملا ہے. اس پر درج تاریخوں کے مطابق وہ نائن الیون کے حملوں سے صرف ایک ہفتہ قبل چار ستمبر 2001ء کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی پہنچے تھے.

ناقابل یقین

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے لاہور میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان القاعدہ کے لیڈروں کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کا موقع ضائع کر چکی ہے.

انہوں نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ 2002ء کے بعد پاکستان کو ایک محفوظ پناہ گاہ اور ان کے بہ قول جنت کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے. امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر یقین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ پاکستانی حکومت کے کسی بھی عہدے دار کو اسامہ بن لادن کے دہشت گردی کے نیٹ ورک میں شامل لیڈروں کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہے.

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر یقین نہیں آ رہا کہ اگر پاکستانی حکام القاعدہ کے لیڈروں کو پکڑنا چاہتے تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے تھے.یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان نے بڑی تعداد میں القاعدہ کے سرکردہ لیڈروں اور کارکنوں کو پکڑ کر امریکا کےحوالے کیا تھا. ان میں ابو زبیدہ اور خالد شیخ محمدجیسے لوگ بھی شامل تھے جن پر نائن الیون حملوں کی فرد جرم عاید کی جا چکی ہے.

آپریشن راہ نجات

جنوبی وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات کے دوران سکیورٹی فورسز نے مزید گیارہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہےجبکہ ایک کارروائی میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آپریشن کی تفصیل جاری کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کوٹکئی، سراروغہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں جبکہ انزرکلے کے اہم قصبہ کو بارودی سرنگوں، دھماکا خیز مواد اور کھلونا بموں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

اس دوران پاک فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل خالد ربانی نے آپریشن والے علاقہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران شکئی، لدھا کےعلاقہ میں غیر ملکی دہشت گردوں کی اہم پناہ گاہ شیرونگئی کو بھی کلیئر کرا لیا گیا ہے. اس پر قبضے کی کارروائی کے دوران کل بیاسی دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھے فوجی شہید اور تینتالیس زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شکئی لدھا کے علاقہ میں چیچن، ازبک اور ترکمن دہشت گرد بڑی تعداد میں موجود ہیں.میجر جنرل خالد ربانی نے کہا کہ کانی گرم کو جلد محفوظ بنا لیا جائے گا .ان کے بہ قول شکئی اور لدھا کے علاقہ میں آپریشن دو سے تین ماہ تک جاری رہ سکتا ہے. اس کے بعد علاقے کو فرنٹئیر کور کے حوالے کر دیا جائے گا.