رام الله – ایجنسیاں
اسرائیلی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقی اور مغربی مقبوضہ بیت المقدس میں آئندہ بیس برسوں میں فلسطینی ایک بڑی اکثریت بن جائیں گے۔
صہیونی مملکت کے میکرو اکانومی مرکز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، ان کی زمینیوں کو بحق سرکار ضبط کرنے جیسی کارروائیوں کے ذریعے تل ابیب یہودیوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں اکثریت دلانا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ بیس برسوں میں فلسطینی علاقے میں عددی اکثریت حاصل میں ہوں گے۔
میکرو اکانومی کی تیارکردہ رپورٹ کو اسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے جاری یہودی آبادکاری کا مقصد علاقے میں فلسطینیوں کی آبادی کو بڑھنے سے روکنا تھا، لیکن فطری طور پر ہونے والا اضافہ ہی اس ضمن میں حتمی میزان کا کردار ادا کرے گا۔
میکرو اکانومی پالیسی مرکز نے خبردار کیا ہے اگر حالات میں تبدیلی نہیں ہوئی تو 67ء کی عرب ۔اسرائیل جنگ کے بعد ہونے والے زمینیوں پر قبضے کے باوجود کوئی بھی بیس برسوں کے اندر القدس دو قومیتوں کا شہر بننے سے نہیں روک سکے گا۔
سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکام نے علاقے میں یہودیوں کو اکثریت دلانے کی خاطر صرف فلسطینیوں کی نجی ملکیت کو بحق سرکار ضبط کرنا ہی مناسب ذریعہ جانا۔
طویل مدت سے اسرائیلی حکومت علاقے میں یہودیوں کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کئے ہوئے ہے لیکن حکومت کی یہ کوششیں پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔
