پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعه 11 ذو القعدة 1430هـ - 30 اکتوبر 2009م

ہلیری کلنٹن کا امریکی ڈرون حملوں پر بات کرنے سے انکار

ایک ٹی وی اینکر کا ہلیری کلنٹن سے کہنا تھا:''آپ کا تو ایک نائن الیون ہوا تھا لیکن ہم پاکستان میں روزانہ ہی نائن الیون کا سامنا کر رہے ہیں''.
ایک ٹی وی اینکر کا ہلیری کلنٹن سے کہنا تھا:''آپ کا تو ایک نائن الیون ہوا تھا لیکن ہم پاکستان میں روزانہ ہی نائن الیون کا سامنا کر رہے ہیں''.
 

اسلام آباد.العربیہ.ایجنسیاں

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو پاکستان کے تین روزہ دورے کے آخری دن جمعہ کو میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے بارے میں امریکا کی پالیسیوں اور خاص طور پر افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے ڈرون حملوں سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے صاف انکار کر دیا.

امریکی وزیرخارجہ کا صرف یہ کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور اوباما انتظامیہ نے دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے پاکستان کی مدد کرنے کا عزم کر رکھا ہے. انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والی کسی خاص ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گی.

پاکستان کی خواتین ٹی وی اینکرز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ایک صحافیہ نے ان سے سوال کیا کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں میں لوگ کسی عدالتی کارروائی کے بغیر مارے جا رہے ہیں. ایک اور صحافیہ نے ان سے سوال کیا کہ وہ دہشت گردی کی کیا تعریف کریں گی.

ان سے مخاطب ہو کر ایک مترجم کے ذریعے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک رہ نما کا کہنا تھا کہ ''میں نے یہ سنا ہے کہ امریکا میں رات گیارہ بجے کے بعد طیاروں کو اڑنے کی اجازت نہیں دی جاتی تاکہ ان کے شور سے شہری متاثر نہ ہوں''.ہم اپنے لوگوں کے لئے بھی اسی طرح کا امن چاہتے ہیں.اس قبائلی رہ نما کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ کو پاکستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے طاقت کے استعمال کے بجائے عقل و دانش کا مظاہرہ کرنا چاہئے.

انہوں نے ہلیری کلنٹن سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کی یعنی امریکی فوج کی خطے میں موجودگی امن کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں کیونکہ اس سے لوگوں میں غم وغصہ اور مایوسی پھیل رہی ہے.ان صاحب کا امریکی وزیر خارجہ سے یہ بھی کہنا تھا کہ ''مہربانی کر کے مجھے معاف کیجئے گا لیکن میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں''.

اسی طرح کا سوال ایک ٹی وی چینل کی اینکر نے ہلیری کلنٹن کے براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو کے دوران بھی داغ دیا کہ''یہ ہماری جنگ نہیں، بلکہ آپ کی جنگ ہے''.انہوں نے اپنا سوال جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''آپ کا تو ایک نائن الیون ہوا تھا لیکن ہم پاکستان میں روزانہ ہی نائن الیون کا سامنا کر رہے ہیں''.

اس طرح کے سوالوں کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے دہشت گردی کی لعنت کو پاکستان کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے۔

نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمارے مفاد میں بھی ہے کہ ہم القاعدہ کے رہ نماﺅں کو گرفتار یا ہلاک کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ اس سے ہر جگہ دہشت گردوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔

واپس اوپر

امریکا کے خلاف نفرت

ہلیری کلنٹن نے صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقات کی۔ قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ صرف طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، ڈرون حملوں سے فاٹا میں امریکا کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ وفد نے امریکی وزیر خارجہ پر واضح کیاکہ قبائلی باشندے دہشت گرد نہیں۔

ہیلری کلنٹن نے صوبہ سرحد اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو یقین دلایا کہ امریکا سول سوسائٹی کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے گا تا کہ امریکی امداد نچلی سطح تک پہنچ سکے اور عام آدمی کو فائدہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے فاٹا میں مظالم کی انتہا کر دی ہے اور امریکا ان کے خلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سیکورٹی ایشوز تک نہیں، امریکا پاکستان سے دیرپا اور طویل المدت تعلقات چاہتا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں ایک ثقافتی شو میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ریڈ زون کے چاروں طرف سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے دانشوروں، سول سوسائٹی اور خواتین کے وفود سے ملاقاتیں کیں جن میں پاکستانی عوام کی سماجی ومعاشرتی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہلیری کلنٹن امریکی وزیرخارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے پہلے تین روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو اسلام آباد پہنچی تھیں. انہوں نے پاکستان میں اپنے قیام کے دوران انتہائی مصروف وقت گزارا اور پاکستانی عوام اور سول سوسائٹی کے ساتھ رشتوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان سے وہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہو گئی ہیں جہاں ہفتہ کو ان کی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات متوقع ہے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: