صنعا.ایجنسیاں
یمن کی ایک عدالت نے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت پر آٹھ شیعہ باغیوں کو سزائے موت سنا دی ہے. ان افراد کو گذشتہ سال ملک کے شمالی علاقے میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا.
عدالت نے اسی مقدمے میں گرفتار سات باغیوں کو بارہ، بارہ سال قید، تین کو تین تین سال، ایک کو آٹھ سال اور ایک کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے. دو باغیوں کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا گیا ہے.
سزا پانے والے حوثی باغیوں کو دارالحکومت صنعا سے تیس کلومیٹر شمال میں واقع بنی حشیش کے علاقے میں سرکاری فوجیوں کے خلاف ایک ماہ تک لڑائی میں حصہ لینے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا.
واضح رہے کہ حوثی شیعہ باغیوں نے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف 2004ء میں ہتھیار اٹھائے تھے اور انہوں نے سعودی عرب اور مغرب کی حمایت یافتہ حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ انہیں سیاسی، اقتصادی اور مذہبی طور پر دیوار سے لگا رہی ہے اور ان کے خلاف اقدامات کر رہی ہے.
شیعہ باغیوں اور یمن کی سکیورٹی فورسز کے درمیان تین ماہ قبل اگست میں لڑائی چھڑنے کے بعد کشیدگی میں اور اضافہ ہوا ہے. یمنی فوج نے شیعہ باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے شمالی صوبے صعدہ اور عمران میں آپریشن شروع کر رکھا ہے اور جنگ والے شمالی علاقوں تک امدادی اداروں کی بھی رسائی نہیں رہی ہے. ان اداروں کا کہان ہے کہ 2004ء میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے یمن کے شمالی صوبوں سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں.
گذشتہ منگل کو یمنی عدالت نے ایک اور مقدمے میں چار باغیوں کو سزائے موت سنائی تھی اور گیارہ کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزا سنائی تھی.ایک باغی کو اس کی قید پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا.
گذشتہ سوموار کو ایک عدالت نے شیعہ باغیوں کے لیڈر عبدالمالک الحوثی کے بھائی یحییٰ الحوثی کے خلاف ان کی غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت شروع کی تھی .وہ اس وقت جرمنی میں رہ رہے ہیں.
یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح کو حوثی باغیوں کی مسلح بغاوت کے علاوہ ملک کے جنوب میں علاحدگی کی تحریک کا بھی سامنا ہے جبکہ پڑوسی ملک سعودی عرب اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ یمن میں عدم استحکام سے القاعدہ کو مزید حملوں کے لئے مدد مل سکتی ہے.
