پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بفته 12 ذو القعدة 1430هـ - 31 اکتوبر 2009م

برطانوی وفدکی آئی آر اے متاثرین کے مسئلہ پرمذاکرات کے لئے لیبیا آمد

برطانوی وزیراعظم گورڈن براٶن کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی ادائی کے لئے مہم کی حمایت کرتے ہیں.فائل
برطانوی وزیراعظم گورڈن براٶن کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی ادائی کے لئے مہم کی حمایت کرتے ہیں.فائل
 

بلفاسٹ.ایجنسیاں

برطانیہ کے ارکان پارلیمان کا ایک وفداختتام ہفتہ پر لیبیا پہنچاہے جہاں وہ لیبیائی حکام سے آئرش ری پبلکن آرمی(آئی آر اے) کی برطانوی حکومت سے آزادی کے لئے لڑائی کے نتیجے میں متاثرہ افراد کو معاوضے دلانے کے لئے بات کریں گے.

لیبیا سے معاوضوں کے حصول کے لئے مہم چلانے والوں کا الزام ہے کہ معمر قذافی کی حکومت نے 1980ء اور 1990ء کے عشرے میں آئرش ری پبلکن آرمی کے لئے سیمٹکس دھماکا خیزمواد بحری جہازوں کے ذریعے بھیجا تھا.اس وقت آئی آر اے شمالی آئرلینڈ میں برطانوی قبضے اورحکمرانی کے خلاف برسرپیکار تھی.

برطانیہ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ جیفرے ڈونالڈسن نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے اس ایشو پرلیبیائی حکام سے بات چیت ہوچکی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ لیبی وزیروں کے ساتھ طرابلس میں بالمشافہ ملاقات کریں گے.ان کے ساتھ وفد میں پانچ اورارکان پارلیمان بھی لیبیا گئے ہیں.

انہوں نے ایک انٹرویومیں کہا کہ بعض متاثرہ افراد کے خاندان اپنے نقصانات کا انفرادی معاوضہ چاہتے ہیں لیکن ان کے دورے کا وسیع تر مقصد ہے.ان کا کہنا تھا کہ ''ہم ایک امن اورمصالحتی فنڈ کے قیام کی کوشش کررہے ہیں جس سے شمالی آئرلینڈ میں امن کو فروغ دینے میں مدد ملے گی اورہم تنازعے کی وراثت سے آگے بڑھ سکیں گے''.

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ لیبیائی اس طرح کے فنڈ کے قیام کے لئے اپنا حصہ ڈالیں گے.برطانیہ سے لیبیا کے تین روزدورے پر روانہ ہونے سے قبل انہوں نے بی سی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ''اب ہم یہ معاملہ براہ راست لیبیائی حکومت کے سامنے اٹھائیں گے''.

برطانوی وزیراعظم گورڈن براٶن کی جماعت لیبرپارٹی کی بھی لیبیا آنے والے وفد میں نمائندگی موجود ہے.گورڈن براٶن نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی معاوضوں کے حصول کے لئے مہم کی حمایت کرتے ہیں.

لیبیا اور برطانوی حکام کے درمیان مذاکرات میں متاثرہ خاندانوں کے ارکان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی لیکن برطانوی ارکان پارلیمان کے لیبیا کے دورے کو معاوضوں کے حصول کے لئے مہم میں ایک اہم پیش رفت قراردیا جارہا ہے.

متاثرہ افراد کے وکلاء نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ دورے کو اہم قدم سمجھتے ہیں اوران کے خیال میں لیبیا اوربرطانیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں انہیں نظراندازنہیں کیا جائے گا''.

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''متاثرہ افراد مخلصانہ طور یہ امیدکرتے ہیں کہ ارکان پارلیمان کی ٹیم کے دورے سے لیبیا ان کے بارے میں اپنے موقف پرنظرثانی کرے گااور اس بات کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا کہ وہ امن اور مصالحتی کوششوں کے ضمن میں لیبیا کا دورہ کریں''.

آئرش ری پبلکن آرمی اورلیبیا کے رہ نما معمر قذافی کے درمیان مبینہ طورپر 1972ء سے تعلقات بتائے جاتے ہیں اورجمہوریہ چیک میں تیار کردہ سیمٹیکس نامی دھماکا خیزمواد کے بارے میں خیال کیا جاتاہے کہ یہ لیبیا ہی کی جانب سے آئی آر اے کو سپلائی کیا گیا تھا.یہ اس مسلح تنظیم کی برطانیہ کے خلاف دہشت گردی کی مہم کے دوران سب سے مہلک ہتھیار سمجھا جاتا تھا.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: