کابل ۔ ایجنسیاں
افغانستان میں حزب اختلاف کے رہ نما اور صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے منصفانہ انتخابات سے متعلق حکومت و الیکشن کمیشن کو پیش کئے جانے والے مطالبات منظور نہ ہونے پر اگلے ہفتے ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ادھر دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی جانب سے انتخاب کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا جائے گا۔
اتوار کے روز اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے کہا "میرے لئے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔" تاہم انہوں نے کسی کو سات نومبر کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں نہیں کہا۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا مطالبہ تھا کہ الیکشن کمشنر عزیز اللہ لدھن سمیت ایسے عہدیداروں کو ان کےعہدے سے ہٹایا جائے جنہوں نے پہلے راونڈ میں صدر کرزئی کے لیے دھاندلی کرائی تھی۔ حامد کرزئی نے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
عبد اللہ عبد اللہ پر انتخابات کے دوسرے مرحلے سے باہر نکلنے کے لئے انتہائی دباو تھا۔ بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں دوسرے مرحلے کی صدارتی ووٹنگ میں ان کی کامیابی یقینی تھی کیونکہ انہوں نے بیس اگست کو ہونے والے دھاندلی زدہ انتخاب میں بھی زیادہ ووٹ لئے تھے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے انتخابی بائیکاٹ سے انتخابی عمل کی ساکھ کو شدید دھچکا لگے گا دوسرے راونڈ میں بہت ہی کم لوگ ووٹ ڈالیں گے کیونکہ طالبان پہلے ہی لوگوں کو ووٹ دینے سے منع کر رہے ہیں۔
