پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
اتوار 13 ذو القعدة 1430هـ - 01 نومبر 2009م

ایرانی سکولوں میں علماء کرام کی تقرری کا منصوبہ: رپورٹ

یہ اقدام ملک میں تعلیم پر بنیاد پرستی کا رنگ غالب آ سکتا ہے: فائل
یہ اقدام ملک میں تعلیم پر بنیاد پرستی کا رنگ غالب آ سکتا ہے: فائل
 

تہران ۔ ایجنسیاں

ایرانی حکومت سکولوں میں علماء دین کی تقرری کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے نافذ العمل ہونے پر مختلف حلقے اسلامی جمہوریہ میں تعلیم کے شعبے میں بنیاد پرستی کے غلبے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

اصلاح پسندوں کے ترجمان کثیر الاشاعت روزنامے "حیات نو" نے اتوار کے روز اپنی اشاعت میں وزارت تعلیم کے اہلکار علی اصغر یزادانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت علماء کو مستقبل بنیادوں پر سکولوں میں تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

مسٹر یزدانی کے بہ قول اس منصوبے کے تحت مقرر کئے جانے والے علماء سکولوں میں نماز باجماعت کو یقینی بنانے کے علاوہ دینی معاملات پر طلبہ کو رہ نمائی دیں گے۔ نیز مذہب سے متعلق طالب علموں کے ذہنوں میں پائی جانے والے شبہات کا جواب دنیا بھی ان علماء کرام کی ذمہ داری ہو گی۔

واضح رہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی سکولوں میں اساتذہ بذات خود طلبہ کو ان امور پر رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں۔ دینی تعلیم کے لئے اسپیشل اساتذہ کی تقرری پہلے بھی کی جاتی رہی مگر اس مقصد کے لئے باقاعدہ دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل علماء کی خدمات پہلی مرتبہ حاصل کی جا رہی ہیں۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: