واشنگٹن ۔ ایجنسیاں
امریکا نے گوانتامو بے قید خانے سے چھے مزید یغور باشندوں کو رہا کر کے انہیں بحرہ الکاہل کے ملک پاولو پہنچا دیا ہے۔ گوانتامو بے سے رہا ہونے والے یغور باشندوں کو 2001ء میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
امریکا نے آسٹریلیا سمیت کئی ممالک سے درخواست کی تھی کہ وہ یغور باشندوں کو اپنے ہاں بسا لے لیکن سب نے انکار کر دیا تھا۔ امریکا اور بحرالکاہل کے ملک پاولو کے درمیان جون میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت پاولو یغور باشندوں کو اپنے ہاں بسائے گا۔ پاولو کے چین کے تحت سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ امریکا اس سے پہلے نو یغور باشندوں کو رہا کر کے انہیں البانیا اور برمودا پہنچا چکا ہے۔
یغور باشندوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں امریکی سرزمین پر رہا کیا جائے لیکن امریکا نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ ایک یغور باشندے کی امریکا میں رہائی سے متعلق درخواست سننے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
امریکا کے زیر انتظام کیوبا کے جزیرے گوانتامو کے عقوبت خانے میں اب بھی 215 قید موجود ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے عہدہ صدارت سنھبالنے کے فوراً بعد اس بدنام زمانہ قید خانے کو ایک سال کے اندر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
چین نے کئی بار امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ گوانتامو بے سے رہا ہونے والے یغور باشندوں کو چین کے حوالے کرے۔ چین نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو اپنے ہاں بسانے سےاجتناب کریں۔ گوانتامو بے میں قید مسلمان چینی باشندوں کا تعلق چین کے صوبے اوغر سے ہے جہاں علاحدگی پسند جماعت کو چینی حکومت دہشتگرد جماعت گردانتی ہے۔
امریکا ان قیدیوں کو ان کے اپنے ممالک کے حوالے کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسے ممالک کے حوالے نہیں کرنا چاہتا جہاں قیدیوں کو مزید سزائیں دیے جانے کا امکان ہو۔ امریکا کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے باشندے واپس چین جانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ چین کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔
