پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
اتوار 13 ذو القعدة 1430هـ - 01 نومبر 2009م

یہودی بستیوں کے بارے میں واشنگٹن کا نقطہ نظر غیر منطقی ہے: محمود عباس

 

دبئی - العربية.نیٹ

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل و فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کے عمل کو تحریک دینے کے سلسلے میں کوئی نئی چیز پیش نہیں کی۔ انہوں نے چھے ماہ تک یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے لئے امریکی حمایت کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لئے یہودی بستیوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

العربیۃ ٹی وی سے خصوصی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن عمل دوبارہ شروع کرنے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تل ابیب سے بات کر رہا ہے۔ امریکا نے فلسطینی مقتدرہ سے مذاکرات نہیں کئے کیونکہ یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں ہمارا نکتہ نظر اصولی ہے اور اس میں کسی قسم تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

محمود عباس نے کہا کہ اختلاف دراصل امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہے کیونکہ اس وقت تل ابیب ہی امن مذاکرات میں تعطل پیدا کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے فلسطینی صدر کو اسرائیل کا یہ موقف پہنچایا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ زیر تعمیر تین ہزار یہودی بستیوں کے منصوبے، القدس اور پبلک عمارات کو امن عمل شروع کرنے سے متعلق فلسطینیوں کی شرط سے مستثنی قرار دیا جائے کیا جائے۔ اس دوران اسرائیل فلسطینیوں بعض رعائیتں دے گا، جس کی روشنی میں تل ابیب انتفاضہ سے پہلے کی حدود پر واپسی کے امکانات کا جائزہ لے گا۔

امریکا نے فلسطینیوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے ایشو پر وقتی طور پر اصرار نہ کریں اور طرفین امن مذاکرات شروع کریں۔ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ہم نے اسرائیل کی اسی پیشکش کی حمایت کی ہے اور اسی کی بنیاد پر ہم مذاکرات شروع کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے فلسطینی صدر کو یقین دلایا کہ امریکی صدر دو برسوں میں فلسطینی ریاست قائم کرائیں گے۔ بہ قول ہلیری کلنٹن، امریکا یہودی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتا ہے، اسی طرح واشنگٹن مشرقی بیت المقدس کو غیر قانونی اور ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ تاہم مذاکرات شروع کرنے کے لئے ہمارے پیکج میں یہودی بستیوں کی حمتی تعمیر بشمول فطری نمو اور القدس روکنا شامل نہیں ہے۔

محمود عباس نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس سمیت یہودی بستیوں کی مقبوضہ عرب علاقوں میں فطری بڑھوتری کو روکے بغیر امن مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کئے جا سکتے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: