راول پنڈی،العربیہ.ایجنسیاں
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں خودکش بم دھماکے کے نتیجےمیں چار فوجیوں سمیت پینتیس افرادجاں بحق اورکم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں.
پولیس حکام کے مطابق سوموار کے روزدوپہر کے وقت بم دھماکا مال روڈ پر واقع شالیمار ہوٹل اور ایک سرکاری بنک کے باہر پارکنگ ایریا میں ہوا ہے.بم ایک کارمیں نصب کیا گیا تھا.یہاں سے پاکستان آرمی کا جنرل ہیڈکوارٹرز چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے.العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بم حملے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جوبنک سے اپنی تنخواہیں نکلوارہے تھے.
ایک اوراطلاع کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پرسوارتھا اوراس نے بنک کے باہرقطار میں کھڑے لوگوں میں گھس کرخود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے وہاں موجود لوگوں کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔ بم دھماکے سے ارد گرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، خوف و ہراس میں مبتلا افراد عمارتوں سے باہر نکل آئے، دھماکے کے بعد دھواں دورسے دکھائی دےرہا تھا۔
حملے میں زخمی ہونےوالے ایک فوجی نے بتایا ہے کہ بم دھماکے کے وقت نیشنل بنک کے باہر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں قطارمیں کھڑے تھے اور وہ تنخواہ وصول کرنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے.اس عینی شاہد فوجی کا کہنا تھا کہ بم دھماکے کے بعد ہم بھاگنا شروع ہوگئے اور ہرطرف انسانی اعضاء اور خون بکھرا ہوا نظرآرہا تھا.
پاکستان آرمی کے ترجمان اعلیٰ میجر جنرل اطہرعباس نے صحافیوں کو بتایاہے کہ بم دھماکے میں چار فوجی جاں بحق اور نو زخمی ہوئے ہیں جبکہ وزیراطلاعات قمرالزمان کائرہ نے پینتیس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں.جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں.
پولیس اوردوسرے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے بم دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور پاک فوج کے جوان بھی بم دھماکے کی جگہ پر پہنچ گئے.بم دھماکے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کرلئے ہیں.حکومت نے اسلام آباد اور راول پنڈی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے.
فوری طورپر کسی گروپ نے راول پنڈی کے حساس علاقے میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی.یہ بم دھماکا ایسے وقت میں ہواہے جب پاکستان آرمی نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف آپریشن تیز کردیا ہے.
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے راولپنڈی میں بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانی کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے الگ الگ بیانات میں انہوں نے کہاکہ اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر ملک دشمن ہیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
 |
بھارتی مداخلت کے شواہد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کیلئے پاکستان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے اورنہ کسی مداخلت کی، جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی مدد کیلئے بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد ملے ہیں جو دفتر خارجہ کو فراہم کر دیئے گئے ہیں.
پیر کو اسلام آبادمیں وزیراطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن منصوبہ کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارہ دہشت گرد ہلاک جبکہ چھے سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاک فوج کے ساتھ لڑائی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہےاوراس میں زیادہ کردارجوانوں و افسران کے بلند حوصلے اور قوم کی حمایت کا ہے اوراب دہشت گردوں کے حوصلے ٹوٹ رہے ہیں۔ |
 |
طالبان جنگجوٶں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعام حکومت پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور ان کے اٹھارہ قریبی جنگجو ساتھیوں کی زندہ یا مردہ گرفتاری یا ان سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر پچاس لاکھ ڈالرز انعام مقرر کیا ہے.
طالبان جنگجوٶں کے اہم کمانڈروں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعام سے متعلق اشتہار ایک موقر انگریزی روزنامے میں سوموار کو صفحہ اول پر شائع ہوا ہے اور اسے ٹیلی ویژن چینلز پر بھی نشر کیا گیا ہے.
اشتہارمیں کہا گیا ہے کہ ''جو کوئی بھی طالبان جنگجوٶں کو زندہ یا مردہ گرفتار کرے گا یا ان کے بارے میں ٹھوس معلومات فراہم کرے گا تو اسے نقد انعام دیا جائے گا''.
اشتہار کی عبارت میں مزید لکھا ہے:''کالعدم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد روزانہ ہونے والی دہشت گردی کی تباہ کن کارروائیوں میں ملوث ہیں اور ان کی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ مسلمان موت کے منہ میں جا رہے ہیں''.
حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود، سنئیر لیڈر ولی الرحمان محسود اور قاری حسین محسود کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر سب سے زیادہ پانچ کروڑ پاکستانی روپے انعام مقرر کیا ہے.
واضح رہے کہ طالبان جنگجوٶں نے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں متعدد خودکش کار بم دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں ماہ اکتوبر کے دوران دو سو پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں.
گذشتہ بدھ کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک مصروف بازار میں کاربم دھماکے میں ایک سو اٹھارہ افراد جاں بحق اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے. |
 |
اقوام متحدہ کی سرگرمیاں معطل درایں اثناء اقوام متحدہ نے افغان سرحد کے قریب واقع پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں اورصوبہ سرحد میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر اپنے طویل المدت منصوبوں پر کام معطل کرنے کا اعلان کیا ہے.تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی ادارے کے اس فیصلہ سے پاکستان کی معاشی حالت بہتر بنا کر انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے کی جانے والوں کوششوں کا دھچکا لگ سکتا ہے.
اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ پاکستان میں اس سال دہشت گردی کے واقعات میں اپنے گیارہ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کیا ہے.گذشتہ ماہ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی خوراک پروگرام کے دفتر میں خودکش بم حملے میں اس کے پانچ اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے.
اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں موجود اپنے بین الاقوامی عملے کی تعداد میں بھی کمی کرے گا اور اپنے کام کو صرف ہنگامی امدادی سرگرمیوں اور سکیورٹی آپریشنزتک محدود کردے گا.
اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی ترجمان آمنہ کمال نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ عالمی ادارہ ابھی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ کون سے پروگراموں کو معطل کیا جائے گا اور ملک سے عملہ کی کتنی تعدادکو واپس بھیجا جائے گا.انہوں نے وضاحت کی کہ طویل المدت ترقیاتی منصوبوں سے مرادپانچ سال یا اس سے زیادہ مدت والے منصوبے ہیں. |
