کوالالمپور.ایجنسیاں
ایران کے وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے پیش کئے گئے مجوزہ معاہدے اور اس پر ایرانی ردعمل کے جائزے کے لئے فنی ماہرین پرمشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے.
کوالالمپورمیں سوموار کوآٹھ ترقی پذیرممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پرایرانی وزیرخارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دوروزپہلے ہم نے یورینیم افزودگی سے متعلق معاہدے پراپنے نقطہ نظر اور تحفظات سے آئی اے ای اے کو آگاہ کردیا ہے،اب ان تمام امور کے جائزے کے لئے ایک ٹیکنیکل کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے''.
انہوں نے کہا کہ ''ہم نے آئی اے ای اے کی جانب سے ایرانی یورینیم کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے تجاویزکا جائزہ لیا ہے اورہمیں ان پر بعض ٹیکنیکل اور معاشی تحفظات ہیں''.ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ''ان کا ملک اپنی جوہری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھےگا''.
جب ان سے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا کہ مغربی طاقتوں کا ایران کے جوہری معاہدے کے معاملے پرصبرکا پیمانہ لبریزہورہا ہے تو متکی کا ازراہ تفنن کہنا تھا''کیا واقعی ایسا ہے''.
ایرانی پارلیمان کے سنئیر ارکان نے دوروز پہلے واضح کیا تھا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے پیش کئے گئے جوہری ایندھن کی تیاری کے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کریں گے.ایرانی مجلس کی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ''ہم 3.5 فی صدافزودہ یورینیم کےبدلے میں 20 فی صد افزودہ یورینیم کولینے کی تجویزکے مکمل طورپرمخالف ہیں''.
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے تجاویزمیں بعض تبدیلیاں چاہتا ہے.مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنی 3.5 فی صد کم ترافزودہ یورینیم میں سے 2640 پاٶنڈزسے زیادہ مقدار کومزید پراسیسنگ کے لئے روس بھیجے گا اورا سے بعد میں فرانس میں جوہری ایندھن میں تبدیل کرکے دوبارہ واپس تہران بھیجا جائے گا جہاں اسے ایک ری ایکٹر میں میڈیکل آئسوٹوپس کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا.
مجوزہ معاہدے کا اصل مقصد ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخیرہ کم کرنا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ تیار کرسکے.ایران کا تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے اس بات پراصراررہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور وہ اس کومعطل یا منجمد کرنے سے انکارکرچکا ہے جبکہ دوسری جانب مغربی طاقتیں اس خدشے کا اظہار کررہی ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری بم تیار کررہا ہے.
