پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
پیر 14 ذو القعدة 1430هـ - 02 نومبر 2009م

صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ، حامد کرزئی کی کامیابی کا اعلان

افغان صدر حامد کرزئی کابل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے ملاقات کر رہے ہیں.
افغان صدر حامد کرزئی کابل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے ملاقات کر رہے ہیں.
 

کابل.ایجنسیاں

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے سابق وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے بائیکاٹ کے بعد انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ کر دیا ہے اور صدر حامد کرزئی کے دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا ہے.

افغان الیکشن کمیشن کے مطابق صدر حامد کرزئی کے حریف امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی دستبرداری کے بعد صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے لئے پولنگ کی ضرورت نہیں رہی اور حامدکرزئی دوبارہ ملک کے صدر منتخب ہو گئے ہیں.

حامد کرزئی کے دوسری مدت کے لئے جنگ زدہ ملک کا صدر بننے کا اعلان افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن کے چئیرمین عزیز اللہ لڈن نے سوموار کو کابل میں نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے جس کے ساتھ ہی ملک میں گذشتہ ڈھائی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے خاتمہ کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں.

آزاد الیکشن کمیشن کے چیف الیکٹورل آفیسر داٶد علی نجفی نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ''صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے لئے پولنگ منسوخ کر دی گئی ہے اور اب سات نومبر کو ووٹ نہیں ڈالے جائیں گے''.

20 اگست کو صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران بڑے پیمانے فراڈ اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے اور صدر حامد کرزئی کامیابی کے لئے مطلوبہ پچاس فی صد ووٹ لینے میں ناکام رہے تھےجس کے بعد سات نومبر کو دوسرے مرحلے کے لئے پولنگ کرانے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں ان کا ان کے قریب ترین حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مقابلہ ہونا تھا.

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے گذشتہ روز صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں صدر کرزئی کے واحد حریف امیدوار کی حیثیت سے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا.ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی پولنگ شفاف نہیں ہو گی.انہوں نے فراڈ سے پاک انتخابات کے انعقاد کے لئے افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ اور انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث وزیروں کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن صدر کرزئی نے ان کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا.

مغربی سفارتکاروں کے مطابق افغان صدر اور ان کے حریف عبد اللہ عبداللہ کے درمیان صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے بچنے کے لئے شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر اتفاق رائے کی غرض سے بات چیت بھی ہوتی رہی ہے لیکن حامد کرزئی کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ کرنے کے بعد یہ بات چیت بھی تعطل کا شکار ہو گئی تھی.

صدارتی انتخابات کے لئے دوبارہ پولنگ کو منسوخ کئے جانے پر انتخابی منتظمین، افغان حکام اور ووٹروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے کے موقع پر بھی طالبان جنگجوٶں نے پولنگ میں حصہ لینے والوں پر حملوں کی دھمکی دے رکھی تھی اور شمالی افغانستان میں شدید موسم سرما کے آغاز کے بعد سڑکیں بند ہونے سے ووٹروں کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے قاصر رہتی.

واپس اوپر

بین کی مون کا اچانک دورہ

حامد کرزئی کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اچانک دورے پر دارالحکومت کابل پہنچے تھے اور انہوں نے افغان صدر اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ سے بات چیت کی ہے.

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق''سیکرٹری جنرل بین کی مون گذشتہ ہفتے کے الم ناک واقعات کے بعد اقوام متحدہ کے ملازمین مرد وخواتین سے اظہار یک جہتی کے لئے کابل پہنچے ہیں''.بیان میں گذشتہ ہفتے افغان دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاٶس پر طالبان جنگجوٶں کے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پانچ اہلکار تین افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے.

بین کی مون کا کہنا ہے کہ کابل میں مزاحمت کاروں کے حملے میں ہلاکتوں کے باوجود افغانستان میں عالمی ادارے کا کام جاری رہے گا اور انہیں افغان صدر حامد کرزئی نے یقین دہائی کرائی ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اقوام متحدہ کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کام کریں گی.

بین کی مون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''حملوں سے ہمارا عزم متزلزل نہیں ہو گا اور افغانستان میں اقوام متحدہ کا کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی''.

ادھر پاکستان میں اقوام متحدہ نے افغانستان کی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اپنے طویل المدت ترقیاتی منصوبوں پر کام معطل کرنے کا اعلان کیا ہے

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: