پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
پیر 14 ذو القعدة 1430هـ - 02 نومبر 2009م

لاہور کے داخلی انٹرچینج کے قریب خود کش حملہ، 32 افراد زخمی

پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے.
پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے.
 

لاہور ۔ العربیہ۔نیٹ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بابو صابو موٹروے انٹرچینج کے ساتھ پولیس چیک پوسٹ پرخود کش بم دھماکے میں سات پولیس اہلکاروں اور ایک ٹریفک وارڈن سمیت بتیس افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں دونوں حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی شام پولیس اہلکار بابوصابو انٹرچینج سے ملحقہ شیرا کوٹ ناکے پر گاڑیوں کو روک کر معمول کی چیکنگ کر رہے تھے کہ اس دوران ایک کار کو روکا گیا تو اس میں سوار شخص نے گاڑی سے نکل کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے حملہ آور کا ساتھی بھی ہلاک ہو گیا۔

پولیس حکام کے مطابق بابو صابو موٹروے انٹرچینج پر خود کش بم دھماکا شام سات بجے قریب ہوا ۔ لاہورکے کیپٹل سٹی پولیس افسر محمد پرویز راٹھور نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس اہلکار بارود سے بھری ایک کار کو روک کر چیک کر رہے تھے کہ اس دوران اس میں سوار ایک حملہ آور نے کار سے باہر نکل کرخود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے خود کش حملہ آوروں کے اعضا مل گئے ہیں۔ کار میں بھی بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد موجود تھا جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے.

دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو میاں منشی، میو اسپتال اور شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے.

بم دھماکے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں سفید رنگ کی مہران کار استعمال کی گئی. عینی شاہدین اور بم ڈسپوزل عملے کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور نے بارہ کلوگرام دھماکا خیز مواد اپنے جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا، اس کی عمر پندرہ سولہ سال کے لگ بھگ تھی اور وہ شکل سے غیر ملکی لگتا تھا۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: