لندن.ایجنسیاں
برطانیہ میں ایک عدالت نے سوموار کو ایک مراکشی خاتون کو اپنے برقع میں کمپیوٹر میموری اسٹک کو چھپا کر لے جانے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے.
مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی اکتالیس سالہ حوریہ شنطوف نے دہشت گردی کی کارروائی میں معاون ثابت ہونے والا مواد رکھنے کے دو جرائم کا اعتراف کیا تھا.خاتون سے برآمد ہونے والی میموری اسٹک میں دھماکا خیز مواد کی تیاری سے متعلق مواد محفوظ کیا گیا تھا جو دہشت گردوں کے لئے مفید ثابت ہو سکتا تھا.
پریس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق چھے بچوں کی ماں کو مانچسٹر کی کراٶن کورٹ کے فیصلہ کے بعد رہا کردیا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی گرفتاری کے بعد پولیس ریمانڈ کے دوران سنائی گئی سزا بھگت چکی ہیں.
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ میموری اسٹک میں ''اخوان المجاہدین'' کے لئے دھماکا خیز
مواد کی تیاری سے متعلق مینول سمیت سات ہزار سے زیاہ فائلیں موجود تھیں'' اور پولیس نے اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لئے ایک منی انسائیکلوپیڈیا قرار دیا تھا.
پراسیکیوٹر سائمن ڈینی سن کا کہنا ہے کہ مراکشی خاتون سے گذشتہ سال اکتوبرمیں لیورپول کے جان لینن ائیرپورٹ پرپولیس افسروں کو انٹرویو کے دوران غلطی سے کمپیوٹراسٹک گر گئی تھی.وہ خاتون کے برقع کے اندرونی حصے کے ساتھ بندھی ہوئی تھی.لیکن اسے پولیس افسروں نے قبضہ میں لے کر چیک کیا تھا.
خاتون سے ایک اور دستاویزبھی برآمد ہوئی تھی جس میں الیکٹرانکس کے فوجی مقاصد کے لئے استعمال سے متعلق معلومات تھیں.پولیس کا کہنا ہے کہ اسٹک میں موجود بعض فائلیں نو سو صفحات پر مشتمل تھیں اور ان سے مانچسٹر کے مارکس اینڈ اسپنسر اسٹور کی دو منزلیں بھر سکتی تھیں.
اس خاتون کے خلاف انٹرنیٹ چیٹ روم سائٹس سے بھی شواہد حاصل کئے گئے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ شہادت کے خواہاں افراد کی حامی رہی تھیں.
