مراکش ۔ ایجنسیاں
عرب لیگ نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں میں توسیع سے متعلق امریکہ کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے واشنگٹن کی جانب سے اس ضمن میں وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن پیر کو مراکش میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو اس حوالے سے مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں ہلیری بدھ کو مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقات کرنے والی ہیں۔
اس سے قبل وہ اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں میں بستیوں کی توسیع روکنے سے متعلق اُن پر زیادہ دباؤ نہ ڈال سکیں۔
تل ابیب میں ہلیری کے بہ قول انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس کے اقدامات کے بدلے میں مثبت ردعمل کا مظاہرہ کریں۔
فلسطینی اور اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں کے بعد، امریکی وزیرخارجہ پیرکو مراکش میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سےبھی ملیں۔ ہلیری کا کہنا تھا کہ بستیوں کی تعمیر سے متعلق اسرائیل کا موقف توقعات سے کم ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر مقام ابوظہبی میں فلسطینی صدر سے ملاقات کے بعد ہلیری کلنٹن نے کہا کہ بستیوں کی تعمیر رکوانا مذاکرات کی بحالی کی شرط نہیں۔
کلنٹن کے اس بیان پر فلسطین کی جانب سے تشویش ظاہر کی گئی۔ تاہم عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہودی بستیوں سے متعلق امریکی موقف تبدیل نہیں ہوا، امریکہ انہیں جائز نہیں سمجھتا۔ فلسطین کی جانب سے اس بیان کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔
دوسری طرف عرب لیگ نے امریکی موقف پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کےسیکریٹری جنرل امر موسٰی کے بہ قول یہودی بستیوں کی توسیع اوباما کی جانب سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے منصوبے کو ناکام کر سکتی ہے۔ ان کے بقول اسرائیل فلسطینی ریاست کو محض ایک جھنڈے اور پاسپورٹ تک محدود دیکھنا چاہتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔
امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کے ترجمان فلپ کراؤلی کے مطابق امریکہ بستیوں کی تعمیر کو جائز تو نہیں سمجھتا تاہم امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لئے اسے بطور شرط بھی تسلیم نہیں کرتا۔ امریکہ کے اس موقف پر عرب دنیا کے علاہ اسرائیل کے بعض اخبارات میں بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی روزنامے ہارٹز کے مطابق انیس سو ترانوے کے اوسلو معاہدے کے بعد سے تمام امریکی صدور نےاس معاملے کومحض موسم کی طرح ایک دلچسپ موضوع کے طور پر لیا، جس پر بات تو کی جا سکتی ہے لیکن جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
