ویانا ۔ ایجنسیاں
عالمی طاقتوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے پیش کئے گئے معاہدے کو قبول کر لے جبکہ امریکا کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس یہ ثابت کرنے کے لئے فیصلہ کن لمحہ آ گیا ہے کہ وہ تنہائی نہیں چاہتا.
امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مجوزہ معاہدے کی مکمل طور پر قبولیت اس بات کا اشارہ ہو گی کہ ایران تنہائی نہیں چاہتا بلکہ وہ تعاون کرنا چاہتا ہے. ہم ایران پر زور دیں گے کہ وہ اصولی طور پر مجوزہ معاہدے سے اتفاق کرے''.
ایران کا کہنا ہے کہ وہ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی چاہتا ہے جبکہ برطانیہ اور روس نے اس پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو جلد سے جلد قبول کر لے اور فرانس نے خبردار کیا ہے کہ اس کے تاخیری حربے قبول نہیں کئے جائیں گے.
ماسکو میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہم تہران کے ریسرچ ری ایکٹر سے متعلق مجوزہ معاہدے کے جواب میں فوری ایرانی ردعمل چاہتے ہیں''.
ایران نے مجوزہ جوہری معاہدے کو قبول کرنے کے لئے دباٶ بڑھنے کے تناظر میں اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرنے کے لئے بیرون ملک بھیجنے کے بجائے براہ راست جوہری ایندھن خریدنے کو ترجیح دے گا.
ایران کی جانب سے اس کا یہ نیا موقف اس کے ایک قریبی اتحادی ملک روس کی جانب سے مجوزہ معاہدے کو قبول کرنے کے لئے دباٶ کے بعد منظر عام پر آیا ہے.
 |
ایرانی ردعمل جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ محمد البرادعی نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مجوزہ معاہدے پر جلد اپنے ردعمل پیش کرے.
محمد البرادعی نے اقوام متحدہ میں سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ''میں نے ایران کو جلد سے جلد مجوزہ معاہدے پر ردعمل ظاہر کرنے کا کہا ہے''.انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ''وہ تنازعے کے حل کے لئے سمجھوتے کرنے پر آمادہ ہو جائیں''.
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اہم معاملہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کا ہے۔ مغربی ممالک ایران کو پابندیوں سے خبردار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی نے آئی اے ای اے کے سربراہ کی جانب سے پیش کئے گئے معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے.ان کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے پیش کئے گئے مجوزہ معاہدے اور اس پر ایرانی ردعمل کے جائزے کے لئے فنی ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے.
کوالالمپور میں ایرانی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دو روز پہلے ہم نے یورینیم افزودگی سے متعلق معاہدے پر اپنے نقطہ نظر اور تحفظات سے آئی اے ای اے کو آگاہ کر دیا ہے، اب ان تمام امور کے جائزے کے لئے ایک ٹیکنیکل کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے''.
انہوں نے کہا کہ ''ہم نے آئی اے ای اے کی جانب سے ایرانی یورینیم کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے تجاویز کا جائزہ لیا ہے اور ہمیں ان پر بعض ٹیکنیکل اور معاشی تحفظات ہیں''.ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ''ان کا ملک اپنی جوہری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھےگا''.
درایں اثناء آئی اے ای اے میں ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم آئی اے ای اے کی نگرانی میں کسی بھی سپلائیر سے ایندھن کی خریداری کے لئے تیار ہیں جیسا کہ ہم نے بیس سال قبل عالمی ادارے کے تعاون سے ارجنٹینا سے جوہری ایندھن کی خریداری کی تھی''.
علی اصغر سلطانیہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ویانا میں مجوزہ جوہری معاہدے پر تکنیکی مذاکرات کے اگلے دور کے لئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کا موقف ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ |
