بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:54 - GMT 09:54

امام خمینی کے سابق دست راست کا فتویٰ

ایران میں اقلیتوں کو ان کےدستوری حقوق دیئے جائیں: حسین منتظری

منگل 15 ذی القعدہ 1430هـ - 03 نومبر 2009م
امام خمینی کے سابق ساتھی اور حالیہ حکومت مخالف عالم دین حسین علی منتظری
امام خمینی کے سابق ساتھی اور حالیہ حکومت مخالف عالم دین حسین علی منتظری
لندن – رمضان الساعدی

ایران کے حکومت مخالف عالم دین حسین علی منتظری نے اپنے حالیہ فتوے میں ملک کے اندر بسنے والی دوسرے لسانی قومیتوں کے حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

علامہ حسین منتظری نے یہ فتویٰ ترک ایرانیوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کیا ہے۔ اس فتوے کو ایرانی حزب اختلاف کے زیر انتظام چلنے والے پورٹلز نے نشر کیا ہے۔فتویٰ میں کہا گیا ہے "کہ کسی کو بھی ملک میں نسلی اور لسانی امتیاز مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔" اس رائے کے ذریعے سرکردہ حکومت مخالف عالم دین نے گذشتہ چند دہائیوں میں ایران میں فارسی زبان کی ترویج پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

حسین منتظری نے اپنے فتویٰ میں ایرانی ترکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قومی حقوق کی خاطر کمر بستہ ہو جائیں۔ انہوں نےایرانی دستور کی دفعات پندرہ اور انیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں شقیں ایران میں غیر فارسی قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔

ایران میں آباد ترک، کردی، ترکمان، عرب اور بلوچ قومیتیں حکومت پر نسلی امتیاز کا الزام عائد کرتی ہیں۔ عرب اکثریتی ایرانی صوبے الاھواز میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک سرگرم ورکر کا کہنا ہے "کہ حسین منتظری کا فتویٰ دوسری اقوام کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔ غیر فارسی بان اقلیتوں کو درپیش مسائل کو غیر جانبدارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔"

انہوں نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ علامہ حسین منتظری نے اپنے فتوے میں الاھواز میں بسنے والی عرب اقوام کا ذکر نہیں کیا، ہم اس کے باوجود ان کے خیالات کو صحیح سمت میں ایک قدم خیال کرتے ہیں۔ امام خمینی کے دست راست کی طرف سے اقلیتیوں کے حقوق کے بارے میں فتویٰ ایک اہم دستاویز ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں غیر فارسی لسانی اقلیتیں کل آبادی کا دو تہائی ہیں۔ امسال بارہ جون کو منعقدہ صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند صدارتی امیدواروں مھدی کروبی اور میر حسین موسوی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر فارسی اقلیتوں کے متعدد مطالبات کو اجاگرکیا تھا اوریہ مطالبات ان کی انتخابی مہم کا اہم حصے رہے ہیں۔