پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
منگل 15 ذو القعدة 1430هـ - 03 نومبر 2009م

طالبان سمیت مخالفین کو حکومت میں خوش آمدید کہا جائے گا: افغان صدر

حامد کرزئی اپنے نائب صدر اول محمد قاسم فہیم (بائیں) اور نائب صدر دوم عبد الکریم خلیلی (دائیں) کے ساتھ کابل میں نیوز کانفرنس  کے دوران.
حامد کرزئی اپنے نائب صدر اول محمد قاسم فہیم (بائیں) اور نائب صدر دوم عبد الکریم خلیلی (دائیں) کے ساتھ کابل میں نیوز کانفرنس کے دوران.
 

کابل.ایجنسیاں

افغانستان کے دوسری مدت کے لئے نو منتخب صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ قومی نمائندگی کی حامل نئی حکومت بنائیں گے جس میں حزب اختلاف کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا. انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بدعنوانیوں کا خاتمہ کریں گے.

حامد کرزئی نے دوسری مدت کے لئے اپنی بلا مقابلہ کامیابی کے اعلان کے ایک روز بعد دارالحکومت کابل میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''وہ طالبان سمیت ملک کے ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں''.ان کے بہ قول طالبان انتظامیہ اور سیاسی مخالفین کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں.لیکن انہوں نے اپنے حریف صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کو حکومت میں شامل کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا.

افغان صدر کا کہنا تھا کہ ''جو لوگ میرے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں خوش آمدید کہا جائے گا، خواہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں میری حمایت کی ہے یا مخالفت کی ہے''.

انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ افغانستان کی بدعنوانیوں کے حوالے سے ایک بری شہرت ہے.ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے کپڑوں پر لگنے والے اس سیاہ دھبے کو دھونے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے. واضح رہے کہ وہ اپنے سابقہ پانچ سالہ دور حکومت میں بھی بدعنوانیوں کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے تھے لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے.

حامد کرزئی نے اپنی نیوز کانفرنس کے دوران یہ نہیں بتایا کہ وہ اداروں میں کیسے اصلاحات لائیں گے اور نہ یہ وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو رعایتیں دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں.

امریکی صدر براک اوباما نے حامد کرزئی کو ٹیلی فون کر کے انہیں دوبارہ ملک کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے اور ان کی کامیابی کو ایک نیا باب قرار دیا ہے.جب انہیں صدر کرزئی نے اپنی حکومت کی جانب سے اصلاحات اور اقدامات کی یقین دہانی کرائی توان کا کہنا تھا کہ کسی کارنامے کے ثبوت کو محض الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے.

ماضی میں حامد کرزئی کی حکومت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ ان کی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ وہ حکومت سے باہر رہ اصلاحات اور قومی اتحاد کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے.

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے سابق وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی جانب سے اتوار کو بائیکاٹ کے بعد سوموار کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ کر دیا تھا اور صدرحامد کرزئی کے دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا تھا.

مغربی سفارتکاروں کے مطابق افغان صدر اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے بچنے اور شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر اتفاق رائے کی غرض سے بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن حامد کرزئی کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ کرنے کے بعد یہ بات چیت بھی تعطل کا شکار ہو گئی تھی.اب امریکا ان پر دباٶ ڈال رہا ہے کہ وہ عبداللہ عبداللہ کو بھی اپنی حکومت میں شامل کریں.

واپس اوپر

طالبان کا فتح کا دعویٰ

دوسری جانب طالبان نے صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ کئے جانے پر طالبان نے اسے اپنی فتح قرار دیا ہے.طالبان نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جانب سے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لئے دھمکیاں کارگر ثابت ہوئی ہیں.

''ہمارے دلیر مجاہدین تمام انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب رہے ہیں.حتیٰ کہ فضائی حملے اور زمینی افواج بھی ہمارے مجاہدین کو حملوں سے باز رکھنے میں ناکام رہے ہیں''.بیان میں کہا گیا ہے.

طالبان کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے لئے پولنگ کی منسوخی اس بات کی بھی مظہر ہے کہ افغانوں نے ایک ایسے الیکشن میں حصہ نہ لینے کے لئے ان کی اپیل پر کان دھرے ہیں جو ان کے بہ قول غیر ملکیوں کا آلہ تھے.

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے کے موقع پر بھی طالبان جنگجوٶں نے پولنگ میں حصہ لینے والوں پر حملوں کی دھمکی دے رکھی تھی .20 اگست کو صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے پولنگ کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوٶں کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ووٹروں کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے گھروں سے باہر نہیں نکلی تھی.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: