پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
منگل 15 ذو القعدة 1430هـ - 03 نومبر 2009م

کراچی:دو ٹرینوں میں تصادم، 14 افراد جاں بحق

حادثے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو مسافر ٹرین کی بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا ہے.
حادثے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو مسافر ٹرین کی بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا ہے.
 

کراچی (العربیہ.ایجنسیاں)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب مسافر ٹرین اور مال بردار گاڑی میں تصادم کے نتیجے میں تین بچوں سمیت چودہ افراد جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں.

ریلوے حکام کے مطابق حادثہ کراچی کے نواحی جمعہ گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں لاہور سے آنے والی مسافر ٹرین علامہ اقبال ایکسپریس اسی پٹڑی پر سامنے سے آنے والی مال بردار گاڑی سے ٹکرا گئی.دونوں ٹرینوں کے تصادم کے بعد ملک کے دوسرے شہروں سے کراچی میں عارضی طور پر ٹرینوں کی آمد ورفت معطل ہو گئی ہے.

حادثے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو مسافر ٹرین کی بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا ہے.زخمیوں کو جناح اور دوسرے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔جناح اسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بتایا ہے کہ ان کے پاس چودہ لاشیں اور پینتالیس زخمی لائے گئے ہیں.جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں.

اس سے پہلے ریلوے پولیس کے سنئیر افسر مظفر شیخ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''تباہ شدہ بوگیوں سے بارہ لاشیں اور اڑتیس زخمیوں کو نکالا گیا ہے.ابھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے''.

ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ ریلوے کراچی آفتاب میمن نے بتایا ہےکہ علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے سگنل نہ ملنے کے باوجود ٹرین کراس کی اور مسافر ٹرین سامنے سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔

ان کے بہ قول ابتدائی تحقیقات کے مطابق علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے ریڈ سگنل کو تاخیر سے دیکھا تھا اور اس غلطی کی وجہ سے مسافر ٹرین پٹڑی پر پہلے سے موجود مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے ٹریک کو نقصان نہیں پہنچا اور تین سے چار گھنٹے میں ٹرین سروس مکمل بحال کر دی جائے گی۔ڈی ایس ریلوے نے بتایا کہ ٹرین حادثے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: