پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
منگل 15 ذو القعدة 1430هـ - 03 نومبر 2009م

حماس کا تل ابیب تک مار کرنے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر بنائی گئی سرنگوں سے ہتھیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے.فائل
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر بنائی گئی سرنگوں سے ہتھیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے.فائل
 

مقبوضہ بیت المقدس.ایجنسیاں

اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس نے ایک ایرانی ساختہ راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو اسرائیل کے سب سے بڑے شہری مرکز تک پہنچ سکتا ہے.

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل آموس یادلین نے صہیونی پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کو بتایا ہے کہ حماس کا راکٹ ساٹھ کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور اس سے تل ابیب کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے.

واضح رہے کہ اب تک غزہ سے چلائے جانے والے راکٹ چالیس کلومیٹر تک مار کر سکتے تھے اور ان سے اسرائیلی آبادی کے آٹھویں حصے کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا.

یادلین نے کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں بتایا کہ راکٹ کا تجربہ حالیہ دنوں میں کیا گیا ہے اور اس کی مزید تفصیل ابھی تک دستیاب نہیں ہوئی.فوری طور یہ واضح نہیں ہوا کہ راکٹ واقعتاً ساٹھ کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور یادلین نے کس بنیاد پر اس راکٹ کو ایرانی ساختہ قرار دیا ہے.

غزہ کی حکمران حماس تنظیم نے اسرائیلی انٹیلی جنس چیف کے بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا. اسرائیل کے بیلسٹک ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹوں کے رنگ اور ان کی ساخت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایرانی ہیں لیکن اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے لئے راکٹوں کی تیاری میں ایران کے کردار کے حوالے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی.

اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ سے تعلق رکھنے فلسطینی مجاہدین بحر متوسطہ میں اپنے راکٹوں کے تجربات کرتے رہتے ہیں. یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب فائر کئے جانے والے راکٹوں اور مارٹر گولوں کو جواز بنا کر گذشتہ موسم سرما میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ مسلط کی تھی. اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں چودہ سو فلسطینی شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے.

اسرائیل کی بائیس روزہ جارحیت کے بعد 18جنوری 2009ء کو اسرائیل اورحماس کے یک طرفہ اعلان جنگ بندی کے بعدغزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں اور مارٹروں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے.سال 2008ء کے دوران فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب تین ہزار تین سو راکٹ اور مارٹر فائر کئے تھے جبکہ رواں سال کے دوران اب تک صرف دو سو پچاس راکٹ فائر کئے گئے ہیں.

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر بنائی گئی سرنگوں سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے لئے ہتھیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے.اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد محاصرے کا شکار فلسطینی کو روزمرہ استعمال کی فراہمی یا اسمگلنگ کے لئے استعمال ہونے والی ان سرنگوں پر متعدد مرتبہ بمباری کی ہے.

اسرائیلی میڈیا نے یادلین کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ فلسطینی جنگجوٶں کے پاس اس وقت اتنی تعداد میں راکٹ جمع ہو چکے ہیں جتنے ان کے پاس غزہ جنگ سے قبل موجود تھے. اسرائیلی دفاعی حکام کے تخمینے کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مجاہدین کے پاس جنگ شروع ہونے سے قبل تین ہزار کے قریب راکٹ تھے.ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں تباہ یا ضائع ہو گئے تھے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: