بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:55 - GMT 09:55

مقدمے کے دفاع کی تیاری کے لئے مزید وقت چاہئے: کراجزچ

راڈووان کراجزچ کی ہیگ میں قائم جنگی ٹرائبیونل میں پہلی پیشی

منگل 15 ذی القعدہ 1430هـ - 03 نومبر 2009م
راڈووان کراجزچ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کی تیاری کے لئے مزید دس ماہ کا وقت درکار ہے.
راڈووان کراجزچ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کی تیاری کے لئے مزید دس ماہ کا وقت درکار ہے.
ہیگ.ایجنسیاں

سابق بوسنیائی سرب لیڈر راڈووان کراجزچ نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی ٹرائبیونل کے روبرو بوسنیائی جنگ میں مسلمانوں پر مظالم اور ان کی نسل کشی کے مقدمے میں پہلی مرتبہ پیش ہو گئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کے لئے مزید وقت درکار ہے.

سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لئے قائم کئے گئے خصوصی فوجداری ٹرائبیونل میں کراجزچ اپنا دفاع خود کر رہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ ہفتے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا.

ان پر 1992ء سے 1995ء کے درمیان لڑی گئی بوسنیائی جنگ میں مسلمانوں کی نسل کشی سمیت جنگی جرائم کے بارہ الزامات عاید کئے گئے ہیں.انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کی تیاری کے لئے مزید دس ماہ کا وقت درکار ہے.

سماعت کے دوران جب ان سے ٹرائبیونل کے سربراہ جج اوگان کوان نے کہا کہ کیا وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ''میں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اس کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا جس کا آغاز ہی برے طریقے سے کیا گیا ہے''.

کراجزچ کا کہنا تھا کہ ''اگر میں ان شرائط کو تسلیم کر لیتا ہوں تو اس طرح کی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے جیسے میں حقیقی طور پر ایک مجرم ہوں''.سوموار کو جج نے ان نے خبردار کیا تھا کہ کراجزچ کو عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے.اگر وہ بائیکاٹ جاری رکھتے ہیں تو ہم ان کی غیر حاضری میں سماعت جاری رکھیں گے اور ان کی جگہ دفاع کے لئے ایک وکیل مقرر کر دیں گے''.

ٹرائبیونل کے پراسیکیوٹر ہلڈیگارڈ ارتزڑیٹزلاف کا کہنا ہے کہ ''مسٹر کراجزچ کو عدالتی کارروائی میں عدم شرکت کے فیصلہ کے ذریعے اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی''.

پراسیکیوٹرز نے کراجزچ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے آغاز کے موقع پر کہا تھا کہ انہوں نے انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کیا تھا اور وہ 1995ء میں سربرنیکا کے قصبے میں آٹھ ہزار بوسنیائی مردوں اور لڑکوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں.

ان پر بوسنیائی سرب فورسز کی جانب سے سرائیوو کے تینتالیس ماہ تک جاری رہے محاصرے کے جرم میں بھی فرد جرم عاید کی گئی ہے.1992ء میں شروع ہوئے اس محاصرے کے دوران ایک اندازے کے مطابق دس ہزار افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی.

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ سابق یوگوسلاویہ کے حصے بخرے ہونے کے وقت سربوں، کروٹس اور مسلمانوں کے درمیان لڑی گئی جنگ میں کراجزچ بوسنیائی سربوں کے کمانڈر تھے اور انہوں نے بوسنیائی مسلمانوں کے نسلی صفایا کی کوشش کی تھی.

کراجزچ ازخود دعوے کے تحت قائم کی گئی جمہوریہ سرپسکا کے صدر بن بیٹھے تھے اور 1996ء میں وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی. وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر نفسیات تھے اور انہوں نے گوشہ نشینی کے دوران لمبی ڈاڑھی رکھ لی اور معالج کا روپ دھار کر لوگوں کا علاج کرتے رہے تھے. انہیں جولائی 2008ء میں گرفتار کیا گیا تھا.

ان کے خلاف پیچیدہ مقدمہ کئی سال تک جاری رہنے کی توقع ہے جس کے دوران سیکڑوں افراد گواہ کے طور پر پیش کئے جائیں گے. ان کے خلاف استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے صفحات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے.