ہیگ.ایجنسیاں
سابق بوسنیائی سرب لیڈرراڈووان کراجزچ نیدرلینڈز کے شہرہیگ میں قائم بین الاقوامی ٹرائبیونل کے روبرو بوسنیائی جنگ میں مسلمانوں پرمظالم اور ان کی نسل کشی کے مقدمے میں پہلی مرتبہ پیش ہوگئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کے لئے مزید وقت درکار ہے.
سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لئے قائم کئے گئے خصوصی فوجداری ٹرائبیونل میں کراجزچ اپنا دفاع خودکررہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ ہفتے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا تھا.
ان پر 1992ء سے 1995ء کے درمیان لڑی گئی بوسنیائی جنگ میں مسلمانوں کی نسل کشی سمیت جنگی جرائم کے بارہ الزامات عاید کئے گئے ہیں.انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کی تیاری کے لئے مزید دس ماہ کا وقت درکار ہے.
سماعت کے دوران جب ان سے ٹرائبیونل کے سربراہ جج اوگان کوان نے کہا کہ کیا وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ '' میں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اس کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا جس کا آغازہی برے طریقے سے کیا گیا ہے''.
کراجزچ کا کہنا تھا کہ ''اگر میں ان شرائط کو تسلیم کرلیتا ہوں تواس طرح کی صورت حال پیدا کردی گئی ہے جیسے میں حقیقی طور پرایک مجرم ہوں''.سوموار کو جج کوان نے خبردار کیا تھا کہ کراجزچ کو عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے.اگر وہ بائیکاٹ جاری رکھتے ہیں تو ہم ان کی غیر حاضری میں سماعت جاری رکھیں گے اور ان کی جگہ دفاع کے لئے ایک وکیل مقررکردیں گے''.
ٹرائبیونل کے پراسیکیوٹر ہلڈیگارڈارتزڑیٹزلاف کا کہنا ہے کہ ''مسٹرکراجزچ کوعدالتی کارروائی میں عدم شرکت کے فیصلہ کے ذریعے اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی''.
پراسیکیوٹرزنے کراجزچ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے آغاز کے موقع پر کہا تھا کہ انہوں نے انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کیا تھا اوروہ 1995ء میں سربرنیکا کے قصبے میں آٹھ ہزاربوسنیائی مردوں اور لڑکوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں.
ان پر بوسنیائی سرب فورسزکی جانب سے سرائیووکے تینتالیس ماہ تک جاری رہے محاصرے کے جرم میں بھی فردجرم عاید کی گئی ہے.1992ء میں شروع ہوئے اس محاصرے کے دوران ایک اندازے کے مطابق دس ہزار افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی.
پراسیکیوٹرزکا کہنا ہے کہ سابق یوگوسلاویہ کے حصے بخرے ہونے کے وقت سربوں،کروٹس اورمسلمانوں کے درمیان لڑی گئی جنگ میں کراجزچ بوسنیائی سربوں کے کمانڈر تھے اور انہوں نے بوسنیائی مسلمانوں کے نسلی صفایا کی کوشش کی تھی.
کراجزچ ازخود دعوے کے تحت قائم کی گئی جمہوریہ سرپسکا کے صدر بن بیٹھے تھے اور 1996ء میں وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی.وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر نفسیات تھے اور انہوں نے گوشہ نشینی کے دوران لمبی ڈاڑھی رکھ لی اور معالج کا روپ دھار کرلوگوں کا علاج کرتے رہے تھے.انہیں جولائی 2008ء میں گرفتار کیا گیا تھا.
ان کے خلاف پیچیدہ مقدمہ کئی سال تک جاری رہنے کی توقع ہے جس کے دوران سیکڑوں افراد گواہ کے طور پرپیش کئے جائیں گے.ان کے خلاف استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے صفحات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے.
