اردن نے عراق کے زیر حراست سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں کو اپنی شہریت دے دی ہے جو وہاں 2003ء میں عراق پر امریکی فوج کی چڑھائی کے بعد سے رہ رہے ہیں.
ایک اردنی عہدے دار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ وزارتی کونسل نے سوموار کو صدام طارق عزیز اور ان کی والدہ ویلیت یوسف نبود کو اردن کی شہریت دینے کی منظوری دی ہے.
اس عہدے دار کے مطابق ''طارق عزیز کے بڑے بیٹے زیاد طارق عزیز اوران کی اہلیہ صبا مظفر انتوان کو اس سے پہلےحال ہی میں ان کی درخواست پر اردن کی شہریت دی جا چکی ہے''.
عالمی شہرت پانے والے تہتر سالہ طارق عزیز کو 1983ء میں عراق کا وزیرخارجہ مقرر کیا گیا تھا اور 1991ء میں انہیں ملک کا نائب وزیرا عظم بنایا گیا تھا.اپریل 2003ء میں امریکی فوج کے ہاتھوں صدام حکومت کے خاتمہ کے بعد انہوں نے خود کو قابض فوج کے حوالے کر دیا تھا.
طارق عزیز کے خلاف صدام دور میں ہوئے انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چلایا گیا ہے اور عراق کی ایک فوجداری عدالت نے چند ماہ قبل طارق عزیز اور مرحوم صدر صدام حسین کے دست راست ''کیمیکل علی''حسن المجید کو انسانیت کے خلاف جرائم پر پندرہ، پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ اسی مقدمے میں سابق صدر کے دو سوتیلے بھائیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی.
طارق عزیز اور کیمیکل علی سمیت آٹھ افراد کے خلاف عراق کے اعلیٰ ٹرائبیونل میں 1992ء میں بغداد میں بیالیس تاجروں کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا تھا.ان تاجروں کو عراق پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد گرانفروشی کے جرم میں قتل کر دیا گیا تھا.
عراق کے سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز ایک چالڈین کیتھولک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ماضی مین یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا.وہ صدام دور کے اب تک زندہ سرکردہ عہدے داروں میں سے ایک ہیں.وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں دوران حراست دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے.