بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:55 - GMT 09:55

عراق کے سابق نائب وزیر اعظم کا خاندان 2003ء سے اردن میں قیام پذیر

اردن نے طارق عزیز کے خاندان کو شہریت دے دی

منگل 15 ذی القعدہ 1430هـ - 03 نومبر 2009م
طارق عزیز کو ایک عراقی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دے کر 15 سال قید کی سزا سنائی ہے.فائل
طارق عزیز کو ایک عراقی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دے کر 15 سال قید کی سزا سنائی ہے.فائل
عمان.ایجنسیاں

اردن نے عراق کے زیر حراست سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں کو اپنی شہریت دے دی ہے جو وہاں 2003ء میں عراق پر امریکی فوج کی چڑھائی کے بعد سے رہ رہے ہیں.

ایک اردنی عہدے دار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ وزارتی کونسل نے سوموار کو صدام طارق عزیز اور ان کی والدہ ویلیت یوسف نبود کو اردن کی شہریت دینے کی منظوری دی ہے.

اس عہدے دار کے مطابق ''طارق عزیز کے بڑے بیٹے زیاد طارق عزیز اوران کی اہلیہ صبا مظفر انتوان کو اس سے پہلےحال ہی میں ان کی درخواست پر اردن کی شہریت دی جا چکی ہے''.

عالمی شہرت پانے والے تہتر سالہ طارق عزیز کو 1983ء میں عراق کا وزیرخارجہ مقرر کیا گیا تھا اور 1991ء میں انہیں ملک کا نائب وزیرا عظم بنایا گیا تھا.اپریل 2003ء میں امریکی فوج کے ہاتھوں صدام حکومت کے خاتمہ کے بعد انہوں نے خود کو قابض فوج کے حوالے کر دیا تھا.

طارق عزیز کے خلاف صدام دور میں ہوئے انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چلایا گیا ہے اور عراق کی ایک فوجداری عدالت نے چند ماہ قبل طارق عزیز اور مرحوم صدر صدام حسین کے دست راست ''کیمیکل علی''حسن المجید کو انسانیت کے خلاف جرائم پر پندرہ، پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ اسی مقدمے میں سابق صدر کے دو سوتیلے بھائیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی.

طارق عزیز اور کیمیکل علی سمیت آٹھ افراد کے خلاف عراق کے اعلیٰ ٹرائبیونل میں 1992ء میں بغداد میں بیالیس تاجروں کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا تھا.ان تاجروں کو عراق پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد گرانفروشی کے جرم میں قتل کر دیا گیا تھا.

عراق کے سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز ایک چالڈین کیتھولک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ماضی مین یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا.وہ صدام دور کے اب تک زندہ سرکردہ عہدے داروں میں سے ایک ہیں.وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں دوران حراست دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے.