پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 16 ذو القعدة 1430هـ - 04 نومبر 2009م

دبئی میں خواتین کو فتوی جاری کرنے کی اجازت مل گئی

چھے اماراتی خواتین کو مفتی بنانے کی غرض سے اگلے برس شروع ہونے والے تربیتی پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے: فائل
چھے اماراتی خواتین کو مفتی بنانے کی غرض سے اگلے برس شروع ہونے والے تربیتی پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے: فائل
 

دبئی ۔ العربیۃ۔نیٹ

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں اگلے برس کے اختتام تک خواتین مفتیات کا تقرر عمل میں آئے گا۔ مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس عدیم النظیر فیصلے کے بعد خواتین مذہبی امور پر فتوی جاری کر سکیں گی۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے انگریزی روزنامے "دی نیشنل" نے مفتی اعظم دیار دبئی احمد الحداد کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس مقصد کے لئے چھے خواتین کو ایک ٹریننگ پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

مفتی اعظم دبئی علامہ حداد نے امسال فروری میں ایک فتوی جاری کیا تھا جس میں انہوں نے خواتین کے مفتی بننے کو جائز قرار دیا تھا۔ اسی سال مئی میں ان کے دفتر سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مفتی بننے کی خواہشمند خواتین کو شرعی اور معاصر قوانین میں خصوصی تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

علامہ حداد نے مذہبی قدامت پسندوں کی جانب سے فیصلے پر متوقع تنقید کو خاطر میں لائے بغیر اس رائے کا اظہار کیا کہ "ایسی خواتین جنہوں نے فتووں کے اجراء کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی ہو وہ صرف خواتین کو درپیش امور پر ہی فتوی دینے کی اہل نہیں بلکہ وہ عبادات، فقہ، اخلاقیات اور معاملات سب کے بارے میں فتوی جاری کرنے کی اہل ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ خواتین کو مفتی مقرر کرنے پر نہیں بلکہ محل نزاع بات یہ ہے کہ کیا خاتون کو کسی ریاست میں مفتی اعظم مقرر کیا جا سکتا ہے؟ بہ قول مفتی احمد الحداد ہم فی الوقت ایسی کسی بحث کا آغاز نہیں کر رہے۔

واضح گذشتہ برس مصر میں پہلی خاتون نوٹری کا تقرر کیا گیا جنہیں نکاح پڑھانے اور طلاق جیسے معاملات کی فہمید کا اختیار دیا گیا تھا، تاہم مصر میں کسی خاتون کو مفتی اعظم کے عہدے پر مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: