دبئی.العربیہ
ناروے میں پروفیسروں کے ایک گروپ نے فلسطینی طلبہ کے خلاف منظم انداز میں امتیازی سلوک اور صہیونی نظریے کی ترویج کے لئے تاریخ کو مسخ کرنے پر اسرائیلی اکیڈیمکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے.
العربیہ کو منگل کے روز ناروے کے پروفیسروں کی جانب سے اسرائیلی ماہرین تعلیم پر پابندی لگانے کے لئے تجاویز پر مشتمل ایک خط موصول ہوا ہے.یہ پروفیسر نارویجئین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں. اس یونیورسٹی کو تیس پروفیسروں کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی تجویز دی گئی ہے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ آئندہ ہفتے فیصلہ کرے گی.
پروفیسر حضرات کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فلسطینی سر زمین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لئے دباٶ ڈالنا ہے. پروفیسروں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ ''ہم دست خط کنندگان اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی ادارے اسرائیل کے خلاف دباٶ بڑھانے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں تا کہ اسرائیل، جمہوری طور پر منتخب فلسطینی حکام اور بین الاقوامی سوسائٹی کے درمیان حقیقی مذاکرات کا آغاز ہو سکے''.
ناروے کے پروفیسروں نے اسرائیلی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جبر و استبداد کی پالیسی کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ تاریخ دان اور ماہرین آثار قدیمہ صہیونی نظریے کے ارتقاء اور ترویج اور فلسطینیوں کی تاریخ اور شناخت کو مٹانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں.
خط میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر بائیس روزہ جارحیت اور زمینی، فضائی اور بحری حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کو بے پایاں مصائب جھیلنا پڑے ہیں اور جس کی تباہ کاریوں سے دنیا بھی دہشت زدہ رہ گئی تھی.
خط میں اسرائیلی اداروں میں فلسطینی طلبہ اور اساتذہ کے خلاف بڑے منظم انداز میں امتیازی سلوک پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پروفیسروں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسرائیل کے نزدیک اوپن یونیورسٹیوں اور تدریس وتعلم کی آزادی سے متعلق آئیڈیلز کی کوئی قدر نہیں ہے.
گروپ نے مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر ریاست اسرائیل اور اس کے نمائندوں کے تدریسی، تحقیقی اور ثقافتی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ بائیکاٹ کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک اس بات کی ضمانت نہیں مل جاتی کہ فلسطینی سرزمین پر سے صہیونی قبضے کو ختم کیا جا رہا ہے.
نارویجئین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر کی ایک مشیر این کیتھرین ڈاہل نے العربیہ کو بتایا ہے کہ جامعہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پروفیسروں کے ان مطالبات پر غور کرنے سے اتفاق کیا ہے. واضح رہے کہ این ٹی این یو ناروے کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے اور یہ مغربی شہر ٹرانڈہیم میں واقع ہے.
مشیر ڈاہل کا کہنا ہے کہ 12 نومبر کو جامعہ کے بورڈ کے اجلاس کے بعد ہی اب اس معاملے پر کوئی تبصرہ کیا جائے گا. جامعہ کا بورڈ آف ڈائریکٹرز گیارہ ارکان پر مشتمل ہے جس میں چار ریاست کے نمائندے، چار یونیورسٹی اسٹاف کے نمائندے دو طلبہ کے نمائندے اور ایک عارضی عملے کا نمائندہ شامل ہوتا ہے.
