پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 16 ذو القعدة 1430هـ - 04 نومبر 2009م

اسرائیلی بحریہ نے حزب اللہ کے لئے ایرانی اسلحے سے لدا جہاز پکڑ لیا

اسلحے سے لدا جہاز بحر متوسطہ پر واقع اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود لے جایا گیا ہے.
اسلحے سے لدا جہاز بحر متوسطہ پر واقع اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود لے جایا گیا ہے.
 

مقبوضہ بیت المقدس.ایجنسیاں

اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے بحر متوسطہ میں اپنی ساحلی حدود سے ایک سو میل دور بین الاقوامی پانیوں میں ایک مال بردار جہاز کو قبضے میں لیا ہے. جہاز پر مبینہ طور پر لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لئے بھیجا گیا ایرانی اسلحہ اور گولہ بارود لدا ہوا ہے اور اب اسے اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود لے جایا گیا ہے.

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ''منگل اور بدھ کی درمیانی شب بحریہ سمندر میں معمول کی چیکنگ کر رہی تھی کہ اس دوران اس نے اپنے ساحلی علاقے سے ایک سو کلومیٹر دور ایک مال بردار جہاز پکڑا ہے جس پر اینٹی گوا کا پرچم لہرا رہا تھا''.

خاتون ترجمان کے مطابق''اسرائیلی بحریہ کے اہلکاروں نے شبہ ہونے پر جہاز کی تلاشی لی تو اس میں اسلحہ اور گولہ بارود لدا ہوا ملا ہے جس کے بعد جہاز کو ساحلی علاقے کی جانب لے جایا گیا ہے''.

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ایرانی اسلحے کو پکڑنا اسرائیلی دفاعی افواج اور ریاست اسرائیل کی ایک اہم کامیابی ہے''.اسرائیل کے نائب وزیر دفاع متان ویلنئی نے فوجی ریڈیو کو بتایا ہے کہ ''فرانکوپ نامی جہاز سے کاتیوشا راکٹ ملے ہیں''.

اسرائیلی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ جہاز پر اسلحہ کی کتنی مقدار لدی ہوئی ہے.انہوں نے اس بارے میں بھی شک کا اظہار کیا ہے کہ جہاز کے عملے کو اس پر لدے گولہ بارود کے بارے میں علم تھا یا نہیں.البتہ ان کا کہنا ہے جہاز پر لدے اسلحہ کو نہیں اتارا گیا.

اس دوران اسرائیل کے فوجی ریڈیو نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ جہاز ایران سے بھیجا گیا تھا اور اس میں لبنانی تنظیم حزب اللہ تک پہنچانے کے لئے اسلحہ لدا ہوا ہے جس میں طیارہ شکن اور ٹینک شکن راکٹ بھی شامل ہیں.

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے سمندروں میں بحری جہازوں کی آمد ورفت سے متعلق ڈیٹا کے مطابق 8622 ٹن وزنی بحری جہاز نے یکم نومبر کو مصر کی بندرگاہ دمیاط پہنچنا تھا اور اسے آخری مرتبہ اکتیس اکتوبر کو بحر متوسطہ میں لبنان اور قبرص کے درمیان سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا.

اسرائیلی بحریہ کے ہاتھوں پکڑا گیا مال بردار جہاز جرمنی کی ہیمبرگ میں قائم شپنگ کمپنی ریڈیرائی جرڈ بارٹلز کا ملکیتی ہے. اس نجی جہازراں فرم سے جہاز کے پکڑے جانے کے واقعہ پر رائٹز نے تبصرہ کرنے کے لئے کہا تو فرم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے.

واپس اوپر

بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی

ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بحری جہاز دمیاط سے قبرص کی بندرگاہ لیمسول کے لئے روانہ ہوا تھا جہاں سے اس نے ترکی اور لبنان جانا تھا اور پھر واپس دمیاط پہنچنا تھا.

اسرائیل کے فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک سو سینتیس میٹر لمبے بحری جہاز کو بین الاقوامی پانیوں سے پکڑا گیا ہے.اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاز سے پکڑے گئے اسلحہ کو اسرائیلی شہروں پر حملے کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا.

جب اسرائیل کے نائب وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ کیا جہاز پر موجود اسلحہ کو حزب اللہ کے لئے بھیجے جانے کے کوئی نشاندہی موجود ہے تو ویلنئی کا جواب ہاں میں تھا اور ان کا کہنا تھا کہ''اس سے حزب اللہ کی اسرائیل کی جانب طویل فاصلے تک راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا تھا''.

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے بحریہ کی کارروائی کو سراہا ہے اور اسے اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف کوششوں کے ضمن میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے. ایہود باراک کا بیان اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس جہاز کو قبرص کے قریب سے پکڑا گیا ہے لیکن بیان میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی.

اسرائیل خطے میں اپنے دشمن ممالک شام اور ایران پر یہ الزام لگاتا رہتا ہے کہ وہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو اسلحہ مہیا کر رہے ہیں.

گذشتہ روز اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس نے ایک ایرانی ساختہ راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو اسرائیل کے سب سے بڑے شہری مرکز تل ابیب تک پہنچ سکتا ہے.

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل آموس یادلین نے صہیونی پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کو بتایا کہ حماس کا راکٹ ساٹھ کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور اس سے تل ابیب کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے.

لیکن حماس نے اس اسرائیلی دعوے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو اسلامی تحریک مزاحمت کا مخالف بنانا ہے.حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی دشمن کی جانب سے بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے یہ ایک پیشگی اقدام ہے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: