پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 16 ذو القعدة 1430هـ - 04 نومبر 2009م

غزہ میں لفظ ''گولڈ اسٹون'' فلسطینی کفایہ پر کندہ

 

مقبوضہ بیت المقدس.العربیہ،اے ایف پی

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے جج رچرڈ گولڈ اسٹون کا نام سننے پر اسرائیل میں شاید بعض لوگ ناک بھوں چڑھائیں لیکن غزہ کی پٹی میں ان کے نام کو ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہو گیا ہے.

اس کا ثبوت یوں بہم پہنچایا جا رہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بائیس روزہ جارحیت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے اقوام متحدہ کی رپورٹ مرتب کرنے پر انہیں عزت وتوقیر سے نوازنے کے لئے ان کا نام مشہور فلسطینی ہیڈ اسکارف کفایہ پر کاڑھ دیا گیا ہے.

غزہ شہر میں صدر عرفات سووینئر شاپ کے مالک طارق ابو ضیا کا کہنا ہے کہ گولڈ اسٹون اس بات کے حق دار ہیں کہ ان کا نام لیجنڈ فلسطینی رہ نما یاسرعرفات کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہونے والے کفایہ پر لکھا جائے.

ابو ضیا نے ایک کفایہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ ''انہوں نے ایک دن میں سفید فیبرک کے پچاس کفایہ تیار کرائے ہیں جن پر مقبوضہ بیت المقدس کی علامت گنبد صخرا (پہاڑی کا گنبد) کی تصویر اور اس کے نیچے انگریزی میں گولڈ اسٹون کے نام کی کڑھائی کی گئی ہے''.

ابو ضیا کی دکان پر اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی میں کام کرنے والے غیر ملکی امدادی کارکنوں کی ضروریات کی اشیاء فروخت کی جاتی ہیں.ان کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے تیار کردہ گولڈ اسٹون کے نام والے نئے کفایہ کو بیس ڈالرز کے لگ بھگ فروخت کیا جائے گا.

واضح رہے کہ گولڈ اسٹون بہ ذات خود ایک یہودی ہیں. وہ بین الاقوامی جنگی جرائم کے سابق پراسیکیوٹر رہے ہیں.انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے حکم پر غزہ جنگ کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی تھی جس میں انہوں نے اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے. رپورٹ میں صہیونی فوج کو چودہ سو فلسطینیوں کی شہادتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے. اس رپورٹ کے بعد فلسطینی انہیں اپنا ایک ہیرو قرار دے رہے ہیں.

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گولڈ اسٹون رپورٹ کی تجاویز پر مبنی ایک قرارداد کی بدھ کو منظوری متوقع ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے دوران وقوع پذیر ہوئے جنگی جرائم کی قابل اعتماد تحقیقات کریں. رپورٹ میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر اسرائیل چھے ماہ میں غزہ میں اپنے جنگی جرائم کی تحقیقات کر کے اس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کرتا تواس کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مزید کارروائی کے لئے بھیج دیا جائے.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: