پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک عدالت نے صوبہ سندھ کی وزیر برائے ثقافت وسیاحت سسی پلیجو کو مبینہ طور پر عشقیہ خطوط لکھنے والے معطل سرکاری افسر کو بارہ نومبر تک عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔
بدھ کے روز صوبہ سندھ کے محکمہ زراعت کے معطل سرکاری افسر الیاس ہلیو کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ انہیں 30 اکتوبر کو کراچی کے درخشاں تھانے کی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے خلاف صوبائی وزیر ثقافت سسی پلیجو کے پرائیویٹ سیکرٹری عبدالرشید راجڑ کی درخواست پر اقدام قتل اور اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔عدالت نے ملزم کو12 نومبر تک عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔
سندھ حکومت نے دو ماہ قبل صوبائی وزیر ثقافت وسیاحت سسی پلیجو کو عشقیہ خطوط لکھنے اور انہیں ہراساں کرنے کے الزام میں الیاس ہلیو کو معطل کر دیا تھا. ذرائع کے مطابق الیاس ہلیو صوبائی وزیر کے ساتھ یک طرفہ عشق میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ انہوں نے اپنے خون سے بھی انہیں محبت بھرے خطوط لکھے تھے اور روزانہ انہیں عشقیہ ای میلز بھیجتے رہے تھے.
انہوں نے مبینہ طور صوبائی وزیر کو ایک دن میں ایک سو ای میلز بھیجی تھیں. ایک دن وہ محبت کے ہاتھوں مجبور سسی پلیجو سے ملاقات کے لئے ان کے دفتر میں بھی پہنچ گئے تھے اور ان سے علاحدگی میں ملاقات کا وقت مانگ لیا تھا.جب سسی پلیجو نے ان سے تعارف پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ''میں وہی ہوں جو آپ کو روزانہ ای میلز اور محبت بھرے خط لکھتا رہا ہے''.
اس ملاقات کے بعد سسی پلیجو نے صوبہ سندھ کے سیکرٹری زراعت سے الیاس ہلیو کی شکایت کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ آپ کا ایک ماتحت افسر میرے لئے سکیورٹی رسک بن گیا ہے جس پر محکمہ زراعت نے محکمانہ انکوائری کی تھی جس میں الیاس ہلیو نے صوبائی وزیر کو محبت بھرے خط لکھنے اور ان سے یک طرفہ عشق کرنے کا اعتراف کیا تھا جس پر انہیں معطل کر دیا گیا تھا. ذرائع کے مطابق الیاس ہلیو پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے پانچ بچے ہیں.
صوبائی وزیر سسی پلیجو کے ترجمان نے 27 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ الیاس ہلیو نامی شخص نیم پاگل اور ذہنی مریض ہونے کی اداکاری کر رہا ہے ا ور یہ منظم انداز میں حملہ آور ہو سکتا ہے.ترجمان نے کہا کہ اس کی دھمکی آمیز ای میلز، خطوط اور فون کا لزکا ریکارڈ ہما رے پاس مو جود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم سازش ہے اور سیاسی اور غیر سیاسی مخالفین صوبائی وزیر، ان کے شوہر سہیل احمد کلہوڑو اور ان کے اہل خانہ کو جانی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا تھا کہ الیاس ہلیو گریڈ سترہ کا افسر ہے اور وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کس طرح کر سکتا ہے اس کی منظم انداز میں حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے سازشی عناصر کا ہاتھ کار فرما ہے۔ ترجمان کے مطابق اس سے پہلے الیاس ہلیو نے دھمکی آمیز خطوط اور ای میلز پر معافی نامہ بھی لکھ کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی اس نے خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا.
سسی پلیجو کے ترجمان کے مطابق ہم اس کی شکایت وزیر اعلیٰ سندھ، محکمہ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے کر چکے ہیں اور باقاعدہ عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو بھی کیس کی تفصیلات بھیج رہے ہیں تاکہ سازشی عناصر کا پتا چلایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق الیاس ہلیو کو ایک سکیورٹی ادارے کے اعلیٰ حکام نے پکڑ کر ڈرایا دھمکایا بھی تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی حرکات سے باز آ جائیں.
واضح رہے کہ سسی پلیجو صوبہ سندھ کے ایک معروف سیاست دان باپ کی بیٹی ہیں اور ان کی والدہ بھی ایک سیاسی کارکن رہی ہیں. وہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کی واحد خاتون رکن ہیں جو ضلع ٹھٹھہ کے علاقے میرپور ساکرو سے براہ راست فروری 2008ء کے انتخابات میں پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئی تھیں. سسی پلیجو لبرل سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہتی ہیں.