اسلام آباد،میرانشاہ (العربیہ.ایجنسیاں)
پاکستان کے افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے جنگجوٶں کے ایک اہم ٹھکانے لدھا قلعہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید اٹھائیس جنگجو مارے گئے ہیں اورپانچ کوگرفتار کرلیا گیاہے جبکہ ایک افسر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکارشہیداوردوزخمی ہوگئےہیں۔
پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسزجنوبی وزیرستان کے علاقوں جنڈولہ، سراروغہ اور پہاڑی چوٹیوں پر اپنی پوزیشن مستحکم کررہی ہیں جبکہ سراروغہ میں کلیئرنس آپریشن کے دوران ایک افسر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکارشہید اوردوزخمی ہوگئے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 17 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوٶں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اورانہوں نے بڑی تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان کے ایک مضبوط گڑھ سراروغہ پربھی قبضہ کرلیا ہے.
جنوبی وزیرستان میں قریباً دس ہزار مسلح جنگجوٶں کے خلاف کارروائی میں قریباً تیس ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں.پاک فوج کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق آپریشن راہ نجات کے دوران اب تک تین سونوے سے زیادہ جنگجومارے گئے ہیں جبکہ سینتیس سکیورٹی اہلکارجاں بحق ہوئے ہیں.
 |
شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ جنوبی وزیرستان سے ملحقہ پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام ایک اورقبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ کے مشرق میں واقع گاٶں نورک میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کے قریب مشرف گل نامی ایک قبائلی کے مکان کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مکان پردومیزائل فائر کئے گئے جس کے بعد مکان کوآگ لگ گئی۔ طالبان نے حملے کے فوراً بعد گاؤں کا محاصرہ کرلیا اور گاٶں کی جانب آنے والے راستوں کو بند کردیا اور کسی بھی شخص کو تباہ شدہ مکان کے قریب نہیں جانے دیا.
ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ مشرف گل نے میزائل حملے کے بعد فائرنگ شروع کردی تاکہ گاٶں کے مکینوں کو جائے وقوعہ کے قریب آنے سے روکا جاسکے اور بعد میں اس نے اپنے دوسرے جنگجوساتھیوں کے ساتھ مل کر مرنے والوں کی تدفین کردی ہے.
دوپاکستانی انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں فوری طورپر مرنے والوں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی اور نہ یہ پتا چلا ہے کہ ان میں کوئی ''ہائی ویلیوٹارگٹ'' بھی تھا یا نہیں.ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری ہیں جس سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ |
