بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:56 - GMT 09:56

''مجوزہ جوہری معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے''

ایران جوہری پروگرام کے ذریعے علاقائی قوت بننا چاہتا ہے: البرادعی

جمعرات 17 ذی القعدہ 1430هـ - 05 نومبر 2009م
آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دے چکا ہے،اس لئے اس کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے.
آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دے چکا ہے،اس لئے اس کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے.
نیویارک.ایجنسیاں

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کا کہنا ہے'' ایران اپنے جوہری پروگرام کو اس لئے ترقی دے رہا ہے کہ دنیا اس کو علاقائی قوت کے طور پر تسلیم کرے''.

جوہری عدم پھیلاٶ کے موضوع پر نیویارک میں منعقدہ ایک فورم میں بات کرتے ہوئے محمد البرادعی نے کہا کہ ''ایرانی اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ جوہری ٹیکنالوجی کے علم سے انہیں وقار اور طاقت حاصل ہو سکتی ہے اور وہ امریکا کے ہم پلہ بن سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس میں کچھ سچائیاں بھی ہیں. ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے بعد اس کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے''.

آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا تھا:''یہ کہا جاتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایک اختتام ہے. وہ دراصل یہ چاہتا ہے کہ اسے علاقائی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے''.

انہوں نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے اس موقف کو دہرایا کہ ''تہران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے''. دوسری جانب امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران یہ کہتا چلا آ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور وہ اس کے ذریعے بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے.

خارجہ تعلقات کونسل کے زیراہتمام فورم میں محمد البرادعی نے ایران، روس، امریکا اور فرانس کے درمیان یورینیم افزودگی اور جوہری ایندھن سے متعلق مجوزہ معاہدے کے بارے میں کوئی زیادہ بات نہیں کی.اس معاہدے کے مسودے کی تیاری میں انہوں نے ایک ثالث کا کردار ادا کیا تھا.

آئی اے ای اے کے مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنی کم تر افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرنے کے لئے روس اور فرانس بھیجے گا جہاں سے اسے ایندھن میں تبدیل کرکے دوبارہ تہران بھیجا جائے گا اور اسے ایک ری ایکٹر میں کینسر کے علاج کے آئسوٹوپس کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا.لیکن سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران اپنی یورینیم کو بیرون ملک بھیجنے کے حوالے سے تردد کا شکار ہے.

امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین گذشتہ کئی برس سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اقتصادی اور سیاسی مراعات کے بدلے میں یورینیم کی افزودگی کا عمل منجمد کر دے لیکن ایران اس پروگرام کو منجمد کرنے سے انکار کر چکا ہے.

سنہری موقع

محمد البرادعی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں مجوزہ معاہدے کو قبول کر لیتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کے بہت سے مسائل ہو سکتے ہیں.

''ایران مشرق وسطیٰ میں استحکام کا دروازہ بن سکتا ہے.میرے خیال میں یہ بڑی واضح بات ہے کہ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نئے در وا ہوں گے اور بالآخر ایران اور امریکا اکٹھے مل کر کام کر سکیں گے ''.ان کا کہنا تھا.

محمد البرادعی نے کہا کہ عراق اور افغانستان میں ایران ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے. ان کے بہ قول انہوں نے ویانا میں مذاکرات کے دوران پہلی مرتبہ ایران اور امریکا کی جانب سے تنازعے کو طے کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھا ہے.

تاہم البرادعی نے خبردار کیا کہ اس امید افزا منظرکے قائم رہنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران مجوزہ معاہدے پر دستخط کر دے اور مغربی طاقتیں مسلسل مذاکرات کے عمل سے جڑی رہیں. انہوں یہ بھی تنبیہ کی کہ'' اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کرتا ہے تو اس سے پورا مشرق وسطیٰ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا''.