اقوام متحدہ نے افغانستان میں کام کرنے والے اپنے 600 ملازمین کو عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی ادارے نے یہ اقدام طالبان جنگجووں کے حملوں کی وجہ سے ابتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث اٹھایا ہے۔
یاد رہے گذشتہ دنوں کابل میں یو این کے گیسٹ ہاوس پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں اقوام متحدہ کے چھے غیر ملکی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
گیسٹ ہاوس پر حملے کے چند ہی لمحوں بعد کابل کے ایک فائیو سٹار ہوٹل پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں قیام پذیر ایک سو غیر ملکیوں کو فوری طور پر محفوظ مقام کی تلاش میں فرار ہونا پڑا۔
اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کیا ہے کہ عالمی ادارہ افغان عوام کی ہر ممکن مدد کا پابند ہے جس طرح وہ گذشتہ نصف صدی سے کرتا چلا آیا ہے۔ ہم اضافی سیکیورٹی میں اپنی ان سرگرمیوں کو محدود پیمانے پر جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔
بیان کے مطابق ایسی قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں کہ اقوام متحدہ افغانستان سے نکلنے والا ہے۔۔۔۔۔۔ ہم شکست تسلیم نہیں کریں گے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اور ہم ایسا ہونے دیں گے۔ عالمی ادارہ افغانستان میں اپنا کام جاری رکھے گا۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن میں تقریبا 5600 افراد خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ان اہلکاروں میں بڑی تعداد افغانوں کی ہے۔ واپس بلایا جانے والا عملہ اس پوری ورک فورس کا صرف بارہ فیصد ہے۔