بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:56 - GMT 09:56

اسرائیلی بحریہ کی کارروائی قزاقی کے زمرے میں آتی ہے: لبنانی تنظیم

حزب اللہ کا اسرائیل کے ہاتھ لگنے والے اسلحہ سے اظہار لا تعلقی

جمعرات 17 ذی القعدہ 1430هـ - 05 نومبر 2009م
اسرائیلی حکام کے مطابق پکڑے گئے بحری جہازپرکاتیوشا راکٹ، ٹینک شکن میزائل اور دوسرا گولہ بارود لدا ہوا ہے.
اسرائیلی حکام کے مطابق پکڑے گئے بحری جہازپرکاتیوشا راکٹ، ٹینک شکن میزائل اور دوسرا گولہ بارود لدا ہوا ہے.
بیروت.ایجنسیاں

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے ہاتھ لگنے والے مال بردار بحری جہاز پر لدے سیکڑوں ٹن اسلحہ سے کسی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی ہے.

حزب اللہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ''اس کا اسرائیل کے ہاتھوں پکڑے گئے اسلحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے''.حزب اللہ نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی قزاقی کے زمرے میں آتی ہے.

اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے بحر متوسطہ میں اپنی ساحلی حدود سے ایک سو میل دور بین الاقوامی پانیوں میں اسلحہ سے لدے ایک مال بردار جہاز کو پکڑا تھا.جہاز پر مبینہ طور پر لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لئے بھیجا گیا ایرانی اسلحہ اور گولہ بارود لدا ہوا تھا اور اسے اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود پہنچا دیا گیا ہے.

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا تھا کہ ''منگل اور بدھ کی درمیانی شب بحریہ سمندر میں معمول کی چیکنگ کر رہی تھی کہ اس دوران اس نے اپنے ساحلی علاقے سے ایک سو کلومیٹر دور ایک مال بردار جہاز کو پکڑا ہے جس پر اینٹی گوا کا پرچم لہرا رہا تھا''.

اسرائیل کے فوجی ریڈیو نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ جہاز ایران سے بھیجا گیا تھا اور اس میں لبنانی تنظیم حزب اللہ تک پہنچانے کے لئے اسلحہ لدا ہوا ہے جس میں طیارہ شکن اور ٹینک شکن راکٹ بھی شامل ہیں.

اسرائیل کی جانب سے اسلحہ کو پکڑے جانے کے واقعہ سے اس کی ایران کے ساتھ شدید کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے. اسرائیل ایران کو اس کے جوہری پروگرام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی وجہ سے ایک اسٹریٹیجک خطرہ سمجھتا ہے اور وہ ایران کے اس موقف کو بھی مسترد کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا ہے حالانکہ خود اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی واحد غیر علانیہ جوہری طاقت سمجھا جاتا ہے.