پاکستان:ایران میں بم دھماکے کے الزام میں تین مشتبہ افراد گرفتار
گذشتہ ماہ خودکش بم دھماکے میں 42افرادمارے گئے تھے
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں گذشتہ ماہ ہوئے ایک خودکش بم دھماکے کی منصوبہ بندی کے الزام می تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے.
ایران کے سنی باغی گروپ جنداللہ نے 18 اکتوبر کوصوبہ سیستان بلوچستان کے سرحدی قصبے پشین میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی.اس واقعے میں پاسداران انقلاب کے پندرہ اہلکاروں سمیت بیالیس افراد مارے گئے تھے.ان میں انقلابی گارڈز کے چھے سنئیر کمانڈر بھی شامل تھے.ایرانی حکام کا الزام ہے کہ جنداللہ سرحدپار سے کارروائیاں کررہی ہے.
پاکستانی حکام کے مطابق پیراملٹری فورس فرنٹئیرکانسٹیبلری نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران تین ایرانیوں کو گرفتار کیا ہے.
ایک انٹیلی جنس عہدے دار نے اہنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گرفتار افراد ایرانی بلوچ ہیں اور ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ گذشتہ ماہ ایران میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں شامل رہے تھے.تاہم اس عہدے دار نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی.
ان تینوں کی گرفتاری ایرانی وزیرداخلہ مصطفیٰ محمد نجار کے پاکستان کے دورے کے دوہفتے بعد عمل میں آئی ہے.ایرانی وزیر نے پاکستان سے ایران کے سنی مزاحمتی گروپ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا.
پاکستان نے ایران میں خودکش بم دھماکے کی مذمت کی تھی اورکہا تھا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لئے ایران کی مددکرے گا لیکن پاکستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی اطلاع کے مطابق عبدالمالک ریگی افغانستان میں ہیں.
ایران اور پاکستان کے درمیان ماضی میں خوشگوار تعلقات استوار رہے ہیں. لیکن 18اکتوبر کے بم دھماکے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیداہوئی ہے.ایران یہ کہہ چکا ہے کہ بم حملے سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ پاسداران انقلاب کے بعض کمانڈر اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ انہیں پاکستانی حدود میں جنداللہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جانی چاہئے.
ایران امریکا اور برطانیہ پر بھی جنداللہ کی پشت پناہی کا الزام عاید کرتا رہتا ہے اور اس کا یہ بھی الزام ہے کہ اس تنظیم کے پاکستانی انٹیلی جنس سے بھی روابط ہیں لیکن امریکا،برطانیہ اور پاکستان .....تینوں.... جنداللہ سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کرچکے ہیں.