صنعا،ریاض.ایجنسیاں
یمن کی وزارت دفاع کے ایک عہدے دار نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ سعودی فورسز نے ان کی سرزمین پر کوئی حملہ کیا ہے.اس سے پہلےیمن کے شیعہ باغیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے شمالی صوبے صعدہ میں ان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے.
اس یمنی عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرزکو بتایا ہے کہ ''سعودی عرب نے یمن کی حدودمیں اہداف کو نشانہ نہیں بنایا''.سعودی حکومت کے ایک مشیر نے اس سے پہلے کہا تھا کہ سعودی فضائیہ نے سرحدی علاقے جبل الدخان میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور اپنے زمینی دستوں کو یمن کی سرحد کے ساتھ تعینات کردیا ہے.
حوثی باغیوں کے ترجمان محمدعبدالسلام نے میڈیا کوبتایاکہ سعودی طیاروں نے یمنی علاقے میں جمعرات کی صبح ان کے چار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے.فوری طورپر فضائی حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے.دوعرب سفارتکاروں نے بھی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر سعودی ایف 15 جنگی طیاروں کے حملوں کی تصدیق کی ہے.
سعودی طیاروں نے یہ حملہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر گذشتہ روزشیعہ باغیوں اورسعودی سکیورٹی فورسزکے درمیان جھڑپ کے ایک روزبعد کیا ہے جس میں سعودی بارڈر گارڈز کا ایک اہلکار جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے.
ایک سعودی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سعودی جیٹ جہاز جنوبی صوبہ جیزان کے ساتھ واقع زیدی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بدھ سے بمباری کررہے ہیں.اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ''یہ مارواور بھاگ جاٶ کارروائی نہیں،بلکہ ایک پائیداراورمستقل عمل ہے جس کے دوران یمنی حکام کے ساتھ روابط کے ذریعے باغیوں کے کیمپوں کا قلع قمع کرنے کے لئے زمینی کارروائی کی جائے گی.
شیعہ باغیوں نے بدھ کو ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جبل الدخان کے علاقے میں سعودی فورسزکو شکست دینے کے بعد کنٹرول حاصل کرلیا ہے.واضح رہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان پندرہ سوکلومیٹر طویل سرحد واقع ہے اور سعودی عرب باغیوں اور دوسرے جنگجوٶں کی دراندازی کوروکنے کے لئے سرحد پرجدیدآہنی باڑھ لگا رہا ہے.
یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اورعمران میں حوثی شیعہ باغی سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف اگست سے برسرپیکار ہیں جبکہ باغیوں اوریمنی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ سال سے لڑائی ہورہی ہے.حوثی باغیوں کے کنٹرول والے یمن کے شورش زدہ شمالی صوبہ صعدہ کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے.امریکی اورسعودی حکام حال ہی میں اس خدشہ کا اظہارکرچکے ہیں کہ صعدہ میں بدامنی سے القاعدہ مزید حملوں کے لئے فائدہ اٹھاسکتی ہے.
واضح رہے کہ یمن کو شیعہ باغیوں کے علاوہ القاعدہ کے جنگجوٶں کی تخریبی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے. جولائی 2008ء میں یمن کے صدرعلی عبداللہ صالح نے شیعہ باغیوں کے خلاف گذشتہ چارسال سے جاری لڑائی ختم کرنے کااعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اب ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے لیکن فریقین کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے باوجود وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہی تھی اور اس میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت آئی ہے.
شیعہ حوثی باغیوں نے 2004ء میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی تھی. یمن کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ باغی 1960ء کے عشرے سے قبل یمن میں نافذ مذہبی نظام حکمرانی کو دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیں جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی زیادتیوں کے خلاف اپنے دیہات کا دفاع کررہے ہیں.
