رام اللہ،مغربی کنارہ .ایجنسیاں
فلسطینی صدر محمودعباس نے کہا ہے کہ وہ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ امیدواربننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن فلسطینی حکام نے ان پرزوردیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں.
محمودعباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں جمعرات کوتنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس میں اپنے مستقبل کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے اور وہ بعد میں میڈیا کے لئے اس حوالے سے کوئی اہم بیان جاری کرنے والے تھے.
اجلاس میں شریک ایک فلسطینی عہدےدار نے رائیٹرزکو بتایاہے کہ صدرمحمودعباس نے بالاصرار یہ بات کہی ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں امیدوارنہیں ہوں گے.البتہ فلسطینی صدر کے ایک سنئیرمشیریاسرعبدربہ کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان ابھی تک انہیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پرآمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں.
محمودعباس نے اپنی حریف فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لئے کوئی معاہدہ طے نہ پانے کے بعد گذشتہ ماہ 24جنوری کوفلسطینی علاقوں میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا.
حماس نے 2006ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اورمغربی کنارے اورغزہ میں حکومت بنائی تھی لیکن فلسطینی صدر محمود عباس نے مغربی ممالک کے دباٶ پرایک سال کے بعدحماس کی حکومت کو چلتا کیا تھا جس پر حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور محمودعباس کی حامی فورسز کو وہاں سے نکال دیا تھا.
جون 2007ء کے بعد حماس کی غزہ میں الگ حکومت قائم ہے اور مغربی کنارے میں محمود عباس کی فتح تحریک کی حکومت قائم ہے.حماس نے فتح کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں جنوری میں ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کررکھا ہے جبکہ مصر کی ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے پر فتح دستخط کرچکی ہے جبکہ حماس نے اس پرابھی تک دستخط نہیں کئے ہیں.
ایک اور فلسطینی عہدے دار کا کہنا ہے کہ محمودعباس نے مشرق وسطیٰ امن عمل تعطل کا شکار ہونے اور اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کی وجہ سے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے.لیکن دوسری جانب غزہ میں حماس کے ایک سنئیرعہدے دار سامی ابوزہری کا کہنا ہے کہ محمودعباس کے الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ فتح کا اندرونی معاملہ ہے.
محمودعباس نے امریکا کے مطالبے پر اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی سے بھی انکار کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل 2003ءمیں امریکا کی حمایت سے شروع کئے گئے مشرق وسطیٰ امن روڈمیپ کے تحت تمام یہودی بستیوں کی تعمیرکا عمل نہیں روکتا اس وقت تک اس کے ساتھ مذاکرات کی بحالی ناممکن ہے.
امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے محمودعباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے گذشتہ ہفتہ کے روزملاقات کی تھی اوران پر مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی پر زوردیا تھا.ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو پہلے امن مذاکرات شروع کرنے چاہئیں اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے عمل کو بعد میں طے کرنا چاہئے.
مصر نے بھی بدھ کو چھے دہائیوں پرانے تنازعے کے حل کے لئے فریقین کے درمیان حتمی مذاکرات کی جلد بحالی پرزوردیا ہے.لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ انتہا پسنداسرائیلی وزیراعظم ہیں جنہوں نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ میں لئے گئے فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کی تعمیرمکمل طور پرمنجمد کرنے کے بجائے صرف یہودی تعمیرات کو محدود کرنے سے اتفاق کیا ہے.ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو قدرتی نشوونما کے عمل کے تحت بڑھنے والے یہودی خاندانوں کو بھی مغربی کنارے میں قائم ان یہودی بستیوں میں بسانا ہے.
