فورٹ ہڈ،ٹیکساس.ایجنسیاں
امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر ذہنی امراض کے ایک فوجی ڈاکٹر نے اندھا دھند فائرنگ کرکے اپنے تیرہ ساتھیوں کو ہلاک اور تیس کو زخمی کر دیا ہے جبکہ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قاتل زندہ ہے اور اسے زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے.
امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل باب کون نے بتایا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو ڈیڑھ بجے دوپہر پیش آیا اور فوجی ڈاکٹر نےفورٹ ہڈ بیس کے فوجیوں کی تیاری کے مرکز میں اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دیں.اس وقت فوجی میڈیکل سکریننگ یا تعیناتی کی تیاری کر رہے تھے.
فورٹ ہڈ، کلین سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ انتالیس سالہ ذہنی امراض کے ڈاکٹر میجر نضال کمال حسن کو فوجی حکام نےگولی مار کر ہلاک کر دیا ہے لیکن فورٹ ہڈ کے کمانڈنگ آفیسر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہے اور اسے زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے. |
 |
صدر براک اوباما کی مذمت امریکی صدر براک اوباما نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کو تشدد کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہمارے لئے تو سمندر پار کسی امریکی فوجی کا جان گنوا بیٹھنا ایک المیہ ہوتا ہے لیکن امریکی سرزمین پر ایک فوجی اڈے پر فوجیوں کی ہلاکت ایک بہت ہی ہولناک واقعہ ہے''.
امریکی فوج کے کمانڈر انچیف صدر اوباما نے واشنگٹن میں ایک بیان میں کہا ''ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمیں اس ہولناک واقعے سے متعلق ہر سوال کا جواب مل سکے اور ہم اس کی مکمل تحقیقات کریں گے''. واضح رہے کہ امریکا کی عسکری تاریخ میں کسی فوجی اڈے پر فائرنگ کا یہ بدترین واقعہ ہے. |
 |
میجر نضال حسن امریکا کے قانون نافذ کرنے والے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فائرنگ کرنے والے فوجی ڈاکٹر کی شناخت آرمی میجر نضال ملک حسن کے طور پر کی ہے .وہ ایک سائیکاٹرسٹ ہیں اور گذشتہ آٹھ سال سے امریکی فوج میں ذہنی ونفسیاتی امراض کے معالج کے طور خدمات انجام دے رہے تھے.
فوری طور پر واقعہ کے محرکات کا پتا نہیں چل سکا کہ انہوں نے اپنے ساتھی فوجیوں پر فائرنگ کیوں کی ہے.تاہم ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی سینٹر کے بیلے ہچیسن نے بتایا ہے کہ آرمی میجر کو سمندر پار تعینات کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈسٹرب تھے.البتہ یہ واضح نہیں کہ اسے افغانستان یا عراق بھیجا جا رہا تھا اور وہ کب امریکا سے بیرون ملک تعیناتی کے لئے روانہ ہونے والا تھا.سینٹر ہچیسن کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلومات فورٹ ہڈ میں تعینات جنرلز نے فراہم کی ہیں.
امریکی آرمی کے ایک ریٹائرڈ کرنل ٹیری لی نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ وہ میجر ندال حسن کے ساتھ کام کر چکے ہیں. وہ اکثر عراق اور افغانستان کی جنگوں کی حمایت کرنے والے فوجیوں کے ساتھ بحث مباحثے کیا کرتے تھے اور انہیں توقع تھی کہ صدر اوباما عراق اور افغانستان سے امریکی فوجوں کو واپس بلا لیں گے.
امریکی فوجی حکام کے مطابق ریاست ورجینیا میں پیدا ہونے والے انتالیس سالہ میجر نضال کمال حسن واشنگٹن کے والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سنٹر میں چھے سال تک سائیکاٹرسٹ کے طور پر تعینات رہے تھے اور ان کا اسی سال جولائی میں ٹیکساس بیس میں تبادلہ کیا گیا تھا. ان کا کہنا ہے کہ میجر حسن کی والٹر ریڈ مرکز میں کارکردگی خراب رہی تھی.
میجر حسن اکیلے ہی رہ رہے تھے اور ان کا کوئی بچہ نہیں تھا.امریکی حکام اس امر کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حسن ان کے پیدائشی نام کا حصہ ہے یا انہوں نے اسلام قبول کرنے کی صورت میں یہ نام رکھا تھا.حکام کا کہنا ہے کہ وہ میجر حسن کے مذہب کے بارے میں فوری طور پر یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں.تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر حسن مسلمان ہی ہیں.
|
