جدہ ۔ العربیہ
سعودی عرب کے ایک دینی سیٹلائیٹ ٹی وی چینل پر ان دنوں نو عمر لڑکیوں اور یونیورسٹی طالبات کے لئے ایک خصوصی پروگرام پیش کیا جا رہا ہے۔
"اسرار البنات" کے عنوان سے نشر ہونے والے اس ٹی وی ٹاک شو کا منفرد پہلو یہ ہے کہ اس میں شرکاء پروگرام اور خاتون اینکر سب ہی نے سر سے پیروں تک سیاہ برقعے پہنا ہوتا ہے۔ پروگرام میں نوجوان لڑکیوں کے مسائل کے بارے میں انتہائی مہذب انداز اور بڑے پراعتماد لہجے میں گفتگو کی جاتی ہے۔
سعودی روزنامے"عرب نیوز" کے مطابق یہ ٹاک شو دینی سیٹلائیٹ ٹی وی چینل "الوطن" کی پیشکش ہے۔ "الوطن" ٹی وی چینل نے سنہ 2008ء کو اگست کے مہینے میں اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔ چینل پر خواتین نیوز کاسٹرز چہرے اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر خبریں پڑھتی ہیں۔
مشرق وسطی میں 60 مذہبی ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں۔ ان چینلوں پر پروگرام پیش کرنے والی خواتین، نیوز کاسٹرز اور اینکروں کے حوالے سے ہر ایک الگ اور انتہاء پسند پالیسی پر کاربند ہے۔
"اقراء" اور "الرسالہ" سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز پر پروگرام پیش کار خواتین اپنا چہرہ نہیں ڈھانپتی۔ وہ مختلف رنگ کے لباس پہن کر کیمرے کے سامنے آ سکتی ہیں۔ آن سکرین ان کے لئے سیاہ رنگ کا لباس پہننا لازم نہیں ہے۔ "المجد" سیٹلائیٹ ٹی وی پر خاتون پریزنٹر پروگرام پیش نہیں کرتیں۔
دینی پروگراموں کے لئے مخصوص سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کی اس کہکشاں میں الوطن ٹی وی خواتین پیش کاروں کو سکرین پر اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے کا موقع اس شرط پر فراہم کرتا ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے مکمل نقاب میں آئیں گی، جس میں ان کا جسم سر سے لیکر پیروں تک سیاہ برقعے میں مستور ہو۔
میڈیا اور گائیڈینس کے شعبے میں گریجویشن کی ڈگری رکھنے والی 26 سالہ سعودی شہری سوزان صلاح الدین پروگرام "اسرار البنات" پیش کرتی ہیں۔ اس پروگرام کے دوسرے شرکاء میں سوزان کی بہن سارہ، جو خون سے متعلق امراض کی ماہر ہیں، اور ماہر نفسیات نوال داود نو عمر لڑکیوں اور یونیورسٹی طالبات کو درپیش مسائل پر گفتگو اور ان کا حل پیش کرتی ہیں۔
دارلحکومت ریاض کی رہائشی سوزان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عرصے سے بطور صحافی کام کرنا چاہتی تھیں۔ کچھ مدت تک وہ اخبارات میں لکھتی رہی ہیں۔ بہ قول سوزان ٹی وی اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا موثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے ہدایتکار نے جب انہیں "اسرار البنات" شو کے مرکزی خیال سے آگاہ کیا تو انہیں وہ بہت پسند آیا۔ "انہوں نے مجھے پروگرام سے متعلق اہم نکات سے آگاہ کیا، جس کے بعد سے ابتک میں ہی بحث کے لئے مواد تیار کرتی ہوں۔"
سوزان نے پروگرام میں آن کیمرے کئے جانے والے نقاب سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ میرا حجاب سے میں اسے چینل کے تفاضے پر نہیں اوڑھتی۔ "ہمارا چینل اسلامی ہے اور انتظامیہ کے طے کردہ ضابطے کے مطابق ہمیں سکرین پر پورے نقاب کے ساتھ آنا ہوتا ہے"
سوزان کا ٹی وی پر پہلا پروگرام ہونے کی وجہ سے انہیں کافی زیادہ اشتیاق تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کی حمایت کیوجہ سے میرے لئے اپنے اس شوق کی تکمیل آسان ہو گئی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ لوگ مجھے دیکھ نہیں سکیں گے اور اس پروگرام کے ذریعے میں اپنا پیغام بہت سی نوجوان سعودی خواتین تک پہنچانے کے قابل ہو سکوں گی۔
