جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے ایران سے امر کی وضاحت طلب کی ہے کہ اس کے سائنسدانوں نے ایک جدید نیوکلئیر وار ہیڈ کا تجربہ کیا ہے.
موقر برطانوی روزنامے دی گارڈین نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں ایک رپورٹ میں آئی اے ای اے کی ایران کے بارے میں پہلے سے غیر شائع دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''ایرانی سائنسدانوں نے بہت زیادہ تباہی پھیلانے کا سبب بننے والی ایک ڈیوائس کا تجربہ کیا ہے''.
ویانا میں قائم آئی اے ای اے نے ستمبر میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے ایران کی جانب سے ماضی میں جوہری بم تیار کرنے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملے. عالمی ادارے نے گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی رائیٹرز کے رابطہ کرنے پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا.
آئی اے ای اے کی جانب سے ستمبر میں جاری کئے گئے بیان کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس ادارے کی ایک کلاسیفائید دستاویز کے حوالے سے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ عالمی ادارے کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری بم کی تیاری کے ذرائع موجود ہیں اور وہ اب ایسے میزائل سسٹم کی تیاری کی طرف بڑھ رہا ہے جو نیوکلئیر وارہیڈ بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں.
گارڈین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں بھی آج تک ٹو پوائنٹ نیوکلئیر وار ہیڈ ٹیکنالوجی کی مجودگی کو خفیہ رکھا جا رہا ہے.اس ٹیکنالوجی کی بدولت چھوٹے اور سادہ وار ہیڈز بنائے جا سکتے ہیں اور انہیں میزائلوں میں نصب کرنا آسان ہوتا ہے.
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کو یورینیم افزودہ کرنے کی تنصیبات میں سے کوئی ایسی چیز نہیں ملی تھی جو پریشانی کا سبب ہو''.
واضح رہے کہ ایران نے اپنی ایک خفیہ جوہری تنصیب کی موجودگی کا ستمبر میں پہلی مرتبہ انکشاف کیا تھا اور سفارتکاروں کے بہ قول اس کا سب سے پہلے مغربی خفیہ ایجنسیوں نے پتا چلایا تھا.اس جوہری تنصیب کے منظر عام پرآنے کے بعد ایران کے بارے میں ان خدشات کو تقویت ملی تھی کہ وہ خفیہ طور پر بم تیار کر رہا ہے جبکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے کے لئے یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے.