اقوام متحدہ.ایجنسیاں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ جنگ سے متعلق عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ پرمبنی ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تین ماہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغازکریں.
قرارداد کا مسودہ عرب ممالک نے پیش کیا تھا اور اس کی پابندی ضروری نہیں،اس لئے اس بات کے کم ہی امکانات ہیں کہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس غزہ جنگ کے دوران اپنے اپنے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کریں گے.
جنرل اسمبلی میں یواین رپورٹ پر دودن کی بحث کے بعد قراردادکی منظوری دی گئی ہے.اقوام متحدہ کے کل ایک سوبانوے رکن ممالک میں سے ایک سوچودہ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا.اٹھارہ نے اس کی مخالفت کی جبکہ چوالیس ممالک رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے.
قرارداد کی منظوری کو عرب ممالک کی فتح اوران کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ قراردیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اسرائیل کوغزہ جنگ کے معاملے پر الگ تھلگ کرنے پر کامیاب رہے ہیں.واضح رہے کہ غزہ جنگ سے متعلق جنوبی افریقہ کے جج گولڈاسٹون کی مرتب کردہ رپورٹ میں اسرائیل پر کڑی تنقید کی گئی ہے.جواب میں اسرائیل نے بھی اس کے خلاف اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا.
اسرائیل نے جمعہ کو بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کردہ قراردادپر کڑی تنقیدکرتے ہوئے عالمی ادارے کی مذمت کی ہے.اسرائیلی وزرات خارجہ کے ترجمان یگال پامرنے ایک بیان میں الزام عاید کیا ہے کہ یواین جنرل اسمبلی کو ان زمینی حقائق کا بالکل بھی علم نہیں، جن کا اسرائیل کو سامنا ہے.
