پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعه 18 ذو القعدة 1430هـ - 06 نومبر 2009م

جنوبی وزیرستان: پاک فوج طالبان جنگجوٶں کے مرکز میں داخل

پاک فوج کے جوانوں نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے دوران ایک جنگجو کو گرفتار کر رکھا ہے.
پاک فوج کے جوانوں نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے دوران ایک جنگجو کو گرفتار کر رکھا ہے.
 

اسلام آباد(العربیہ.ایجنسیاں)

افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے طالبان جنگجوٶں کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات کے دوران پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور جمعہ کو فوجی جوان طالبان جنگجوٶں کے اہم مرکز مکین میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید چوبیس جنگجو مارے گئے ہیں .

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فوجی جوان تین اطراف سے طالبان کے مرکز کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں. وہ مکین میں واقع طالبان کے ہیڈکوارٹرز میں داخل ہو گئے ہیں اور اس کے بڑے حصے کو کلئیر کرا لیا گیا ہے''.

فوجی کارروائی میں شریک ایک سنئیر فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''فوجی جوانوں کو طالبان جنگجوٶں کی جانب سے بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے''.انہوں نے بتایا کہ فوجی دستے اب علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز مواد کو صاف کر رہے ہیں.

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق مکین پر قبضے کے لئے کارروائی کے دوران اکیس جنگجو مارے گئے ہیں.یاد رہے کہ اسی قصبے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود 5 اگست کو امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے.اب سکیورٹی فورسز نے بیت اللہ محسود کا گھر بھی مسمار کر دیا ہے.

آئی ایس پی آر کے مطابق مکین کا بڑا حصہ کلئیر کرا لیا گیا ہے جبکہ باقی حصے میں سرچ آپریشن جاری ہے، فورسز نے سراروغہ کے اردگرد بھی پوزیشنیں مضبوط کر لی ہیں. سراروغہ پر طالبان جنگجوٶں نے چار راکٹ فائر کئے ہیں اور اسی علاقے میں جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے. سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقوں بنگائی خیل، ٹوٹآئی لنگر خیل اور کوٹ لنگر خیل میں سرچ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر کے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 17 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوٶں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی.پاک فوج نے گذشتہ روز طالبان جنگجوٶں کے ایک اور مضبوط گڑھ سراروغہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا.

جنوبی وزیرستان میں قریباً دس ہزار مسلح جنگجوٶں کے خلاف کارروائی میں قریباً تیس ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں. پاک فوج کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق آپریشن راہ نجات کے دوران اب تک چار سو بیس سے زیادہ جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ چالیس کے قریب سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں.

واپس اوپر

ایک اور بریگیڈئیر پر فائرنگ

دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی علاقے سیکٹر آئی ایٹ میں جمعہ کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان آرمی کے ایک بریگیڈئیر اور ان کا ڈرائیور زخمی ہو گئے ہیں.

اسلام آباد پولیس کے مطابق سیکٹر آئی ایٹ فور میں واقع مسجد قباء کے نزدیک پاک فوج کے افسر بریگیڈئیر سہیل اپنے ڈرائیور لانس نائیک محمد رمضان کے ہمراہ پجارو گاڑی میں دفتر جا رہے تھے کہ اچانک دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں وہ اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگئے۔

ڈان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے بریگیڈئیر فوج کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہیں. یاد رہے کہ بائیس اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں فائرنگ کے اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں پاک فوج کے ایک بریگیڈئیر اور ان کا فوجی ڈرائیور جاں بحق ہو گئے تھے.

وزیر داخلہ اے رحمن ملک نے وفاقی دارالحکومت میں فوجی گاڑی پر فائرنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سے تین روز میں واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجرموں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے.

واضح رہے کہ اسلام آباد میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی ہے اور جگہ جگہ پولیس نے چیک پوائنٹ قائم کر رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گرد فوجی گاڑی پر فائرنگ کے بعد بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: