بدھ 11 ربيع الثاني 1432هـ - 16 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 12:57 - GMT 09:57

متحارب فلسطینی تنظیموں کا عازمین حج کو سعودی عرب بھیجنے کےلئے باہمی تعاون

حماس اور فتح کا غزہ کے 4500 عازمین حج کی فہرست پر اتفاق

جمعہ 18 ذی القعدہ 1430هـ - 06 نومبر 2009م
فلسطینی عازمین حج مکة المکرمہ جانے کے لئے مصر کی سرحد کے ساتھ واقع رفح کراسنگ پر پہنچے ہیں.فائل
فلسطینی عازمین حج مکة المکرمہ جانے کے لئے مصر کی سرحد کے ساتھ واقع رفح کراسنگ پر پہنچے ہیں.فائل
غزہ.ایجنسیاں

متحارب فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح نے اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چار ہزار عازمین حج کی ایک فہرست سے اتفاق کیا ہے جس کے بعد فلسطینی جمعہ سے حجاز مقدس کے لئے روانہ ہو رہے ہیں.

اسرائیل نے بھی بارڈر کراسنگ پر محاصرے کو نرم کرتے ہوئے غزہ میں ایچ 1این 1 کے وائرس سے بچاٶ کے لئے ویکسین لے جانے کی اجازت دے دی ہے تاکہ سفر حج پر روانہ ہونے والے فلسطینیوں کو یہ ویکسین لگائی جا سکے. غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی عازمین حج رفح کراسنگ سے مصر جائیں گے جہاں سے وہ سعودی عرب کے لئے روانہ ہوں گے.

گذشتہ سال حماس اور فتح کے درمیان اختلافات کی وجہ سے غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی حج کے لئے سعودی عرب نہیں جا سکے تھے.دونوں تنظیموں نے عازمین حج کی اپنی اپنی فہرستیں مرتب کی تھیں اور حماس نے اپنی مرتب کردہ فہرست میں شامل فلسطینیوں کو حج کی اجازت نہ ملنے پر دوسرے لوگوں کو بھی غزہ سے باہر جانے سے روک لیا تھا.

مصر گذشتہ ایک سال سے دونوں تنظیموں کے درمیان مصالحت کے لئے کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کی جانب سے ثالثی کی ان کوششوں کے باوجود فتح اور حماس کے درمیان قومی حکومت کی تشکیل اور دوسرے اختلافات کے خاتمے کے لئے معاہدہ نہیں طے پا سکا.

لیکن تمام تراختلافات کے باوجود غزہ کی حکمران حماس اور مغربی کنارے کی حکمران فتح سعودی حکام کو پیش کرنے کے لئے عازمین حج کی ایک مشترکہ فہرست کو مرتب کرنے اور اس پراتفاق کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں.

ایک چونتیس سالہ عازم حج سامی عبداللہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان عازمین حج کے معاملے پر تعاون دونوں کے باہمی سیاسی اختلافات کے خاتمے کے لئے بھی ایک نمونہ ثابت ہو گا کیونکہ دونوں کے اختلافات سے فلسطینیوں کی قومی تحریک کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے.

اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ سفر حج کے لئے روانہ ہونے کے موقع پر سامی عبداللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں ان دونوں تنظیموں پر زور دوں گا کہ وہ یا تو اپنے اختلافات کا خاتمہ کریں یا پھر ہمیں تنہا چھوڑ دیں''.