دبئی - العربية.نیٹ
سعودی عرب میں سزائے موت کے منتظر ایک نوجوان نے تیسری شادی کر لی۔ شادی کی یہ تقریب ابھا جیل میں منعقد ہوئی۔
سعودی روزنامے "عکاظ" کے مطابق قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت پانے والے تیس سالہ نوجوان حمد اور اس کی 23 سالہ تیسری دلہن کے خاندانوں کی پرانی شناسائی تھی۔ دو سال قبل حمد پر قتل کا مقدمہ بنا جس میں اسے قصاص کے طور پر سزائے موت سنائی گئی۔ تیسری شادی سے پہلے حمد کی دو بیویاں اور سات بچے ہیں۔ جیل جانے کے بعد حمد کی نوکری ختم ہو گئی تھی، اس کے اہل خانہ کی کفالت کا واحد ذریعہ صرف آٹھ سو ریال ماہانہ حکومتی سوشل سیکیورٹی ہے۔
بہ قول حمد، دلہن کے والد نے اس سے مھر کا تقاضہ نہ کرکے احسان کا معاملہ کیا۔ اسیر دولہا کے مطابق دلہن کے والد نے شادی کے لئے صرف اپنی بیٹی کی رضامندی کی شرط عائد کی تھی، جو اس نے بخوشی ظاہر کر کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ ایک ایسے شخص کی بیوی بننے کو تیار ہے کہ جس کی زندگی قصاص میں ختم کئے جانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
ابھا جیل کے انچارج میجر علی محمد ھتلان نے بتایا کہ شادی کے لئے لڑکی رضا مندی کے بعد جیل ہی میں انتظامیہ نے شادی کی سادہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جیل کے کلینک میں ہی دولہا اور دلہن کا طبی معائنہ کیا گیا۔ نکاح خواں کو جیل ہی بلا کر ایجاب و قبول کرایا گیا۔ جیل میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شریک مہمانوں کی نکاح کے بعد مشروبات اور مٹھائیوں سے تواضع کی گئی۔ جیل ہی کے ایک ونگ میں نو بیاہتا جوڑے کے لئے شب بسری کا اہتمام کیا گیا تھا۔
حمد القحطانی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مقتول کے ورثاء اسے معاف کر دیں گے۔ "زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔" اسیر دلہا کا کہنا تھا کہ جب تک میری سانس چل رہی ہے، شادی کرنا میرا حق ہے۔
