"افزودہ یورنیم ایران سے کبھی باہر نہیں بھیجیں گے"
ایرانی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ کا اعلان
ایرانی مجلس شوری کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک تہران میں اپنے تحقیقی پلانٹ کے لئے ایندھن حاصل کرنے کی غرض سے افزودہ یورنییم کو باہر نہیں بھیجے گا۔
ایسنا خبر رساں ایجنسی نے مسٹر بروجردی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ہم نے ایندھن حاصل کرنے کے لئے بارہ سو کلوگرام یورنیم کا کوئی بھی حصہ ایران سے باہر ارسال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" بہ قول بروجردی یہ بات نہ تو تدریجی عمل کے طور پر قابل قبول ہے اور نہ یکدم ہم ایسا کرنے والے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی ماہرین ایندھن کے حصول میں مشکلات کے حل کی خاطر مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ایرانی ایٹمی ایجنسی کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ایران نیوکلئیر ایندھن خریدنے کی غرض سے مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے۔ ترکی کے سرکاری ٹی وی "ٹی آر ٹی" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے احمدی نژاد نے بتایا تھا کہ ہمیں اپنے تہران کے پلانٹ کے لئے بیس فیصد افزودہ یورنیم درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ایجنسی کے مطابق بعض ممالک ایران کو اپنا تہران پلانٹ چلانے کے لئے ایٹمی ایندھن فروخت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ "ہم ان سے اس ایندھن کی خریداری پر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔"
احمدی نژاد نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران اپنے نیوکلئر منصوبوں کے لئے درکار ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران یہ ایندھن خریدنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایران جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے علاوہ کسی فورم پر بھی اس سلسلے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔